مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 15 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 15

(10) رخصت لے لیتے بلکہ اپنے گھر میں یہ بھی یہی دستور رکھتے اور جلد ہی اپنے ریسرچ کے کام میں مصروف ہو جاتے۔پھر جب آپ مسجد فضل جاتے اور اس کا مقصد اگر صرف نماز ادا کرنا ہوتا تو پھر آپ بلکل یہی کرتے۔اگر چہ آپ ایسے مواقع پر اپنے بزرگوں کے احترام میں ان سے جا کر ملاقات کرتے جیسے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب۔مگر ملاقات کے فورا بعد آپ رخصت لے لیتے چاہے اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آپ اپنے درجنوں مداحوں کو مایوس چھوڑ کر گھر لوٹ آتے۔مجھے یقین واثق ہے کہ اس کا مقصد پیارے ابی کا یہی ہوتا تھا کہ لوگ ان کے عمل سے سیکھیں اور زندگی کے ہر لمحہ کی وقعت کو جان کر اس کا صحیح مصرف تلاش کر کے با ضابطہ دستور والی زندگی گزاریں جس پر موجودہ وقت کا اثر سب سے زیادہ بالا اور مؤثر ہوگا۔نیز یہ بھی کہ لوگ خدائے لم یزل کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول میں پوری تندہی سے جت جائیں گے۔الغرض یہ چند اسباق ہیں جو میں نے پیارے ابی سے سیکھے۔یہ ان کی مختصر روداد ہے بلاشبہ میں نے اس عظیم شخص کی کامیاب زندگی کے مختصر حصہ پر سرسری نظر ڈالنے کی سعی نا کام کی ہے۔ابی اس بات کے بہت ماہر تھے کہ کس طریق سے وہ لا زوال حکمت اور دانائی کی باتوں کی طرف دوسروں کی رہ نمائی کریں جو زندگی کے ہر حادثہ اور تجربہ میں مضمر ہیں۔اس سے زیادہ یہ کہ ذہنی طور پر ماؤف ہونا یا سیکھنے کی استعداد کی اہمیت کو خدائے قدوس کے عنایت کردہ ہر قیمتی لمحہ سے خود کو محروم کرنا ان کے نزدیک زندگی کے پرو سیشن سے علیحدہ ہو جانے کے مترادف تھا۔جو پوری شان کے ساتھ قدم بڑھاتے مکمل اطاعت سے بسیط اور لا محدود فضا میں عدم کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔مجھے بلا شبہ معلوم ہے کہ وہ سموئیل جانسن کی ایک نظم کی موزونیت جانتے ہوئے اسکی ضرور قدردانی کرتے جس کا ایک حصہ یہ ہے:۔Catch then, O 'Catch the transient hour Improve each moment as it flied Life's a short summer, man a flower He dies - alas۔How soon he dies