مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 168
(۱۶۸) جاتیں۔ایک روز ایسا ہوا کہ ہم اپنے ساتھی طلباء کے ساتھ چائے کی میز پر بیٹھے تھے۔اچانک وہاں پروفیسر میتھیوز تشریف لے آئے۔اور ڈاکٹر صاحب کے متعلق باتیں ہونے لگیں۔موضوع یہی تھا کہ سلام کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔متھیوز نے بتلایا کہ میں نے ایک دفعہ سلام سے کہا کہ تم دوسروں کی سہولت کیلئے دقیق موضوعات کو آسان بنا کر کیوں پیش نہیں کرتے ؟ سلام نے ہنس کر جواب دیا اگر میں تمہارے لئے ایسا کروں تو تم کہو گے ارے یہ تو بہت آسان بات تھی۔میں خود بھی سوچ سکتا تھا ( اس میں مذاق کا پہلو زیادہ تھا) میں نہیں سمجھتا کہ سلام میں خود غرضی تھی یا کہ تکبر۔ان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنا وقت بے جا صرف کرنے اور سرکھپانے کو تیار نہ تھے یعنی _ He had no patience for mediocrity جب ہمارا ڈی آئی سی کا کورس ختم ہوا تو انہوں نے سب پاکستانیوں کا بلا کر کہا کہ دیکھو بھئی اب تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔تمہیں ابھی سے اپنے پی ایچ ڈی پروگرام کا خیال کرنا ہوگا۔یہاں پر ہم لوگ تو اپنے اپنے کام میں اسقدر مصروف ہیں کہ تمہیں زیادہ وقت نہیں دے سکیں گے۔اس لئے کسی دوسری یو نیورسٹی چلے جاؤ وہاں سپر وائزر بہت خیال رکھیں گے، توجہ دیں گے۔ہم تمہارا داخلہ کروا دیں گے ہم لوگ اس پیغام سے بہت مایوس ہوئے۔کچھ نے پریشان ہو کر دوسری یو نیورسٹیوں میں داخلہ کی کوششیں شروع کر دیں۔مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ وہ طلباء کی مدد کرنے کو تیار نہ تھے۔مجھے یاد ہے جب ہم نے DIC کا کورس مکمل کرنے پر تحقیق کا کام شروع کیا تو سلام نے سب کو بلوایا اور ہر ایک کو ریسرچ پرابلمز بتائے۔میرے لئے بھی پر اہلم تجویز ہوا۔وہ بو لتے جارہے تھے اور میں لکھتا جاتا تھا۔پلے کچھ نہ پڑا بعد میں میں اس کاغذ کو بڑے احترام کے ساتھ دراز میں سنبھال دیا۔اور پھر خود ہی اپنے معیار کا پرابلم تلاش کر لیا میری خوش قسمتی کہ جلد کامیابی ہوئی۔مسودہ تیار کر کے ان کے پاس لے گیا۔اس تحقیق کا تجویز کردہ ماڈل انہی کا تھا اور ساتھ SU(3) symmetry group۔چند بنیادی ذرات کے decay process کوسٹڈی کیا گیا تھا۔انہوں نے مسودہ کو دیکھا ورق الٹے اور پوچھا کہ اس میں kaan particles کی کنٹر یوشنز کیوں شامل نہیں کی گئیں؟ میں نے جواب دیا کہ کسی دوسرے نے بھی Koan