مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 167
(142) اس کے باوجود سبھی بے حد متاثر اور وجدانی کیفیت میں بیٹھے نوٹس لے رہے ہیں۔سلام کے لیکچرز ایک exciting experience ہوتے تھے جو طلباء میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیتے تھے۔ان کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے طلباء تیز رفتاری سے آگے بڑھیں اور ایسے لگتا تھا جیسے وہ بہت جلدی میں ہیں۔ان کے پاس وقت بہت کم ہے اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔دوسروں کیلئے پیغام ہوتا تھا کہ اگر آپ ہمارے شانہ بشانہ نہیں چل سکتے تو کوئی اور راہ اختیار کریں۔ہم آپ کا انتظار نہیں کر سکتے : If you cannot rise to us, we cannot stoop to you ہمارے شہر میں صرف قد آور بستے ہیں یہاں بونوں کیلئے جگہ نہیں ہے۔یہ تھا ان کے کام کروانے کا ٹائل۔یہی وجہ ہے کہ اگر چہ ان کے بے شمار شاگرد رہے مگر صرف گنے چنے نے ان کے ساتھ کام کر سکے۔ان کی شخصیت سلام مرحوم کی بارعب شخصیت، ان کا دبدبہ، اور جلالی مزاج، اور اس پر طرہ ان کی آنکھوں کی چک کہ کسی کی مجال ہے کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر سکے۔کسی چیز کا جواب معلوم بھی ہوتا تو کہنے کی جرات نہ ہوتی۔شروع شروع میں ہمیں گمان ہوا کہ یہ سب کچھ مشرقی لوگوں کا مسئلہ ہے مگر جلد ہی اس راز کی قلعی کھل گئی۔ہم نے دیکھا کہ سفید فام تلامذہ کا بھی یہی حال تھا، وہ بھی اسی کشتی میں سوار تھے۔جھنگ کی یہ پیکر علم و عمل شخصیت مغرب ہو یا مشرق ہر ایک پر حاوی تھی۔سلام مرحوم کی آنکھوں کی خیرہ کن چمک سے متعلق ایک واقعہ سنا تا ہوں۔سلام کی سیکرٹری جو شاید mannerism کی مناسبت سے تھیٹر کی دنیا میں شاید زیادہ موزوں ہوتی۔وہ ایک دفعہ پروفیسر متیھوڑ کے پاس شکایت لے کر گئی۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔کہنے لگی سلام کیسے انسان ہیں مجھے دفتر میں بلاتے ہیں۔میں جاتی ہوں اور سامنے جا کر کھڑی ہو جاتی ہوں۔نہ وہ مجھے ہیلو کہتے ہیں اور نہ ہی آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہیں اور بس ڈکٹے شن شروع کر دیتے ہیں۔میتھیوز بہت بڑے شفیق انسان تھے اور سب ہی ان کے پاس جا کر اپنے دکھڑے سناتے تھے انہوں نے دلا سا دیتے ہوئے کہا: شکر کرو اس نے تمہاری طرف نمیں دیکھا ورنہ تم خوف سے لرز