مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 130 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 130

(۱۳۰) خطاب ہمہ تن گوش ہو کر سنا ڈاکٹر سلام نے اپنے خطاب میں کیمبرج منتقل ہونے کے بعض نہایت دلچسپ واقعات حاضرین کے گوش گزار کئے اور ان مایوسیوں اور نشیب وفراز کا تذکرہ بھی کیا جن کا انہیں لاہور میں ریسرچ سائینس دان کے طور پر سامنا کرنا پڑا انہوں نے اپنے ریسرچ کے کام کا ذکر تفصیل سے کیا جس کی بناء پر ان کو نوبل انعام کا مستحق قرار دیا گیا تھا۔۲۶ جنوری ۱۹۸۱ء کو قادیان میں پروفیسر سلام کے اعزاز میں ایک عوامی استقبالیہ منعقد ہوا یہاں کے گردونواح کے دیہاتی علاقوں سے بہت سارے لوگ اپنے اس پنجابی ہیرو کا دیدار کرنے پر وانوں کی طرح چلے آئے جس نے نوبل انعام جیتا تھا۔اسکے بعد شام کو گولڈن ٹمپل امرتسر کی مذہبی کمیٹی SGPC نے انہیں تمغہ پیش کیا اور پھر وہ بھارت کے مختلف شہروں کے دورہ پر روانہ ہو گئے جس میں انہوں نے کئی ایک یونیورسٹیوں کو وزٹ کیا اور چھ تعلیمی اداروں نے آپ کو ڈاکریٹ کی اعزازی ڈگریاں پیش کیں۔اس دورہ کا ضمنی فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے شعبہ فزکس میں نئے دور کی داغ بیل ڈالی گئی پر و فیسر سلام کی تجویز پر ہماری یونیورسٹی (یعنی گرونانک دیو) آئی سی ٹی پی کی فیڈرٹیڈ نمبر بن گئی جس کے تحت ابھرتے ہوئے فیکلٹی کے قابل ممبر ٹریسٹ مزید تربیت کے لئے جاسکتے تھے یو نیورسٹی میں سینٹر فار پروموشن آف سائینس کو معرض وجود میں لانے کیلئے۔TWAS۔تھرڈ ورلڈا کیڈیمی آف سائینس نے خاص امداد دینے کا اعلان کیا۔پروفیسر سلام علی گڑھ یو نیورسٹی۔بنارس یو نیورسٹی اور ہماری گرو نانک دیو یونیورسٹی کی ترقی و بہبودی میں بھی مکمل دلچسپی رکھتے تھے۔مستقبل کے خواب پر وفیسر عبد اسلام نہایت راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔آپ کی تربیت ایک دین دار اور پارسا خاندان میں ہوئی۔جس میں اسلامی روایات کے عین مطابق اللہ کی ذات اور اس کی کائینات پر یقین جزو ایمان تھا وہ سائینس دان کے روپ میں فی الحقیقت ایک صوفی تھے اور ان کی تمام سائینسی ریسرچ پر صوفیانہ طرز فکر کا خاص اثر رہا ایک صوفی کی طرح آپ فطرت میں حسن اور نکھار کا مزہ محسوس کرنے کے