مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 110 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 110

(+11) گھر گئے ڈاکٹر صاحب کا غم سے برا حال تھا چو ہدری صاحب نے انہیں نصیحت فرمائی اور فر مایا کہ اس قدر غم بھی بعض اوقات شرک کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔پھر اپنی مثال دی کہ اپنی والدہ مرحومہ سے عشق ہونے کے باوجود ان کی وفات پر صبر اختیار کیا اور اللہ کی رضا پر راضی ہو گیا۔بہت دیر تک ان کو نصیحت فرماتے رہے پھر اٹھ کر ڈاکٹر صاحب کو گلے لگایا ڈاکٹر صاحب جی بھر کر روئے ، اور ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کا اپنے والدین سے عشق اس وجہ سے تھا کہ دونوں اولیاء اللہ میں سے تھے صاحب کشف و رؤیا تھے ان کی زندگی اوڑھنا اور بچھونا اللہ کی رہنما کا حصول تھا چوہدری محمد حسین صاحب ساری ساری رات عبادت میں گزارا کرتے تھے اور دعاؤں میں خاص شغف رکھتے تھے۔دین کے خادم محترمہ مسز سلام ایک لمبے عرصہ تک برطانیہ کی لجنہ اماءاللہ کی صدر رہیں جبکہ عاجز کو بحیثیت امام اور مشنری انچارج جماعت احمد یہ برطانیہ ان کا مکمل تعاون حاصل رہا۔مسز سلام دن رات سلسلہ کے کاموں میں اور لجنہ اماءاللہ بر طانیہ کی تعلیم و تربیت میں مگن رہتی تھیں۔اس کام میں انہیں ڈاکٹر صاحب کا مکمل تعاون حاصل تھا۔مسز سلام ایک طرف جماعت کی خدمت میں لگی رہتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ مکرم ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور کے درجنوں مہمانوں کی بیک وقت مہمان نوازی میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتی تھیں یہ آسان کام نہیں تھا۔اس مہم کو سر کرنے کیلئے دونوں میاں بیوی کا آپس میں تعاون ضروری تھا جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انہیں میسر تھا۔ڈاکٹر صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کی اعلیٰ تربیت اور ان کے مرحوم بزرگ والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے تمام بچے دین کے بچے خادم مخلص ، خلافت کے اطاعت گزار اور کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا بڑا بیٹا احمد سلام جلسہ ہائے بر طانیہ اور دیگر تقاریب پر کچن میں ڈیوٹی پر ہمیشہ مگن رہتا ہے اور خوشی محسوس کرتا ہے۔ایک مرتبہ ایک معزز مسلمان مہمان جلسہ سالانہ پر تشریف لائے تو جلسہ کے انتظامات دیکھ کر