مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 101
(1+1) سے ایسے ٹرسٹ بنادئے جن سے خاص طور پر پاکستانی طلباء اور سائینسدان استفادہ کر سکیں۔ایسی قربانی اور بے لوث حب الوطنی کی مثالیں شاذ ہی نظر آتی ہیں۔مختلف ترقی یافتہ ممالک نے انہیں اپنی شہریت پیش کی اور امداد کا وعدہ کیا جبکہ ان کے اپنے بد نصیب ملک نے ان سے اکثر و بیشتر سرد مہری اور سوتیلے پن کا سلوک کیا۔اس جاہلانہ تنگ نظری کی ایک مثال یہ ہے کہ نوبل پرائز ملنے کے موقعہ پر جو تقریر انہوں نے کی پاکستانی ٹیلی ویژن اور اخبارات نے اسے رپورٹ کرتے ہوئے وہ حصے حذف کر دئے جن میں کہ قرآنی آیات سے استدلال کیا گیا تھا۔لیکن اس مرد خدا نے تمام غیر ملکی پیش کشوں کو ٹھکراتے ہوئے آخر دم تک پاکستان کے سبز رنگ کے پاسپورٹ کو سینے سے لگائے رکھا۔سچ ہے وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ھے ڈاکٹر سلام تیسری دنیا کی اور خاص طور پر اسلام ممالک کی پسماندگی پر بہت رنجیدہ ہوتے تھے حتی کہ وہ پسماندگی اور غربت کو کفر کی ایک قسم قرار دیتے تھے اور اسکی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالنے کی بجائے یہ کہتے تھے کہ اس کی اصل وجہ ہمارا علم اور سائینس کو نظر انداز کرنا ہے۔وہ اس بات زور دیتے تھے کہ سائینس اور تحقیق سے نہ صرف ذہن آزاد ہوتا ہے اور علم و دانش ترقی کرتے ہیں ، بلکہ ان کا صنعت و حرفت اور رہن سہن پر فوری خوشگوار اثر پڑتا ہے اور غربت اور پسماندگی کو دور کرنے میں مددملتی ہے۔ان کی تمام عمر اس کوشش میں صرف ہوئی کہ ہم سائینس کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے قومی ترجیحات میں مناسب درجہ دیں۔وہ چاہتے تھے کہ سائینس کے لئے زیادہ وسائل مہیا کئے جائیں اور سائینسدانوں کو معاشرے میں مناسب مقام حاصل ہو۔ایک تجویز انہوں نے یہ پیش کی کہ تمام اسلامی ممالک جن میں کچھ بہت امیر بھی ہیں اپنی پیداوار کا ایک فی صد حصہ سائینس اور تحقیق کے لئے مختص کر دیں تا کہ اعلی تحقیقی ادارے قائم ہو سکیں اور کچھ عملی کام ہو۔انہوں نے یقین دلایا کہ اس طرح اسلامی دنیا کا نقشہ بدل جائیگا اور ایک دفعہ پھر وہ علم وفن کا گہوارہ بن جائیگی اور دوسری اقوام بھی اس سے استفادہ کرنے لگیں گی۔تمام ممالک نے اتفاق کیا اور مقررہ شرح کے مطابق وسائل مہیا کر نی کا وعدہ بھی کیا لیکن الا ما