مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 42 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 42

42 روغن استعمال ہوا تھا۔اور روغن کو آگ جلدی لگ جاتی ہے۔یوں گرجے کو آگ لگ گئی۔اور اس کا کچھ حصہ تباہ ہو گیا۔اب تو ابر ہ کو یقین ہو گیا کہ جب تک خانہ کعبہ ہے۔یہ عرب اس گرجے کی عظمت کو قائم نہیں ہونے دیں گے۔اس طرح مکہ کے لئے اس کے دل میں نفرت پوری طرح بھر گئی۔اب ابرہہ نے ایک چال چلی اس نے اپنے آدمی بھیج کر عرب کے رئیسوں کو جمع کیا تاکہ بغیر لڑائی کے عربوں کو قلیس کی طرف مائل کیا جائے۔اور ان کو کہا جائے کہ وہ اب حج بھی اسی کا کیا کریں۔قبیلہ خزاعہ کے دو بڑے سردار جن میں محمد بن خزاعی اور قیس بن خزاعی آئے۔وہ عیسائی نہیں تھے۔مگر انعام و اکرام کے لالچ نے ان کو اندھا کر دیا۔دونوں مکہ کے لوگوں کو جمع کر کے ترغیب دیتے کہ حاکم وقت سے اپنے تعلقات اچھے رکھو اس کی بات مان لو۔قلیس کا طواف کیا کرو۔اگر ایسا کرو گے تو وہ عرب کی حالت بدل دے گا۔یہاں بھی ترقیاتی کام ہوں گے۔جب یہ دونوں بنو کنانہ کے علاقہ میں پہنچے تو مکہ کے لوگوں کو اس پروپیگنڈے کی اطلاع مل گئی۔انہوں نے تصدیق کی خاطر ہذیل قبیلہ کے سردار عروہ بن حیاض کو صحیح حالات معلوم کرنے بھیجا وہ سفر کرتا ہوا جب بنو کنانہ کے ہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ دونوں رئیس عربوں کو کعبہ کی عبادت اس کے طواف سے روک رہے ہیں اور قلیس کی شان بیان ہو رہی ہے۔پھر کیا تھا۔اس نے سوچا کہ اب قوم سے کیا مشورہ لینا۔خود ہی ان کا علاج کرو۔تیر کمان نکالی اور محمد بن خزاعی کے سینہ کا نشانہ لیا۔وہ تو اسی وقت مر گیا۔مگر دوسرا بھاگا اور ابرہہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔اب تو ابر ہہ غصہ سے پاگل ہو گیا کہ میرے ایلچی کو یعنی سفیر کو مار دیا۔اس کو پکا یقین ہو گیا کہ کعبہ کی موجودگی 1 تفسير كبير سورة الفيل