مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 26 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 26

26 یہ تعمیر کیا گیا۔یہ گھر بڑی عظمت اور برکت والا ہے۔اس کی حفاظت بھی حضرت اسمعیل علیہ السلام کے سپرد ہوئی اور اس کے طواف کا حکم دیا گیا۔ساتھ ہی چشمہ کے مالک بھی آپ ہی تھے۔چنانچہ حضرت اسمعیل علیہ السلام جو اپنے وقت کے نبی تھے۔انہوں نے اس گھر کی عزت اور احترام کو قائم کیا۔قبیلہ جرہم کے علاوہ دوسرے قبائل جو مکہ میں آئے تھے۔وہ بھی اس کا طواف کرتے اور اس پر نذرانے دیتے۔جب حضرت اسمعیل علیہ السلام کا انتقال ہوا۔تو کعبہ کی خدمت ان کے بڑے بیٹے نابت کے حصہ میں آئی۔ان کے بعد یہ سعادت نابت کے نانا مضاض بن عمرو کو ملی۔اس قبیلہ نے سینکڑوں سال خانہ کعبہ اور حاجیوں کی خدمت کا فریضہ ادا کیا۔لیکن ایک اور قبیلہ جس کا نام خزاعہ تھا کی نظر کعبہ کی دولت اور مکہ کی سرداری پر تھی۔اس نے لڑائی کر کے قبیلہ جرہم سے کعبہ کی تولیت چھین لی۔اور اس قبیلہ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔اس وقت قبیلہ کے سردار عمرو بن الحرث جرہمی نے کعبہ کی دولت چشمہ میں ڈال کر اس کو مٹی سے بند کر دیا ہے۔قبیلہ حجر ہم کو مکہ چھوڑنے کا بہت صدمہ تھا۔وہ یمن کی طرف ہجرت کر گئے۔جب قبیلہ خزاعہ مکہ میں داخل ہوا تو مقدس چشمہ گم ہو چکا تھا۔وہ لوگ سخت حیران ہوئے۔بہت تلاش کیا۔لیکن زمزم نہ ملا۔اصل میں اس چشمہ کو تو خدا نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد کی خاطر جاری کیا تھا۔اور قبیلہ جرہم حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد کے نانا کا قبیلہ تھا۔ایک خون کے رشتہ کی وجہ سے خدا نے اس قبیلہ کو بھی اس سعادت سے نواز 1 سيرة خاتم النبيين جلد اوّل صفحہ 97