منتخب تحریرات — Page 9
کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر، بے زور، پیکس، اقی ، یتیم تنہا غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور نبج واضحہ سے سب کی زبان بند کر دی اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بیکسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا۔اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی۔کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائید الہی کے بھی ہوا کرتا ہے۔(روحانی خزائن جلد ابراہین احمدیہ صفحہ ۱۱۹) خیال کرنا چاہیئے کہ کس استقلال سے آنحضرت ﷺ اپنے دعوی نبوت پر باوجود پیدا ہو جانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہو جانے لاکھوں معاندوں اور مزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دُکھ اُٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روز بروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہو جانا وہم بھی نہیں گزرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے از دست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہکر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلا لیا۔وطن سے نکالے گئے۔قتل کے لئے تعاقب کئے گئے۔گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہو گیا۔بار ہاز ہر دی گئی اور جو خیر خواہ تھے وہ بد خواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں۔(روحانی خزائن جلد ا براہین احمد یه صفحه ۱۰۸-۱۰۹) مصطفی پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبا لب ہے پلایا ہم نے محمد