مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 66
۶۶ - مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی ۱۸۹۲ء: یہ گمراہ کرنے والا چھپا مرتد ہے بلکہ وہ اپنے شیطان سے زیادہ گمراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے۔اگر یہ اپنے اس اعتقاد پر مرجائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے۔“ ہے - فتویٰ قاضی عبداللہ صاحب مدراسی ۱۸۹۳ء وہ شرع شریف کی رو سے مرتد ، زندیق و کافر ہے اور بمصداق ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے تمہیں دجالوں میں سے ایک ہے اور جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کا فر و مرتد ہے۔سے ہم نے علما کے صرف چند فتاوی کے مختصر اقتباسات درج کئے ہیں۔قارئین کے لئے مرزا غلام احمد صاحب کے اعتقادات اور اسلام کے ساتھ ان کے قلبی تعلق کی ایک جھلک پچھلے صفحات پر دیکھی ہے جن عقائد کی تشریح میں مرزا صاحب اور علماء وقت میں واضح اختلاف تھا۔ان کے بارے میں اکابرینِ اسلام میں سے چند ایک کی آراء ملاحظہ کی ہیں۔اس کے بعد آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ علما کے یہ فتاویٰ کس قدر ظالمانہ کا روائی تھی۔لیکن یہ کتنا بھی مقام افسوس کیوں نہ ہو خدا کے رسول اور اس رسالہ اشاعۃ السنہ ۱۸۹۰ء- جلد ۱۳ صفحه ۶ رسالہ اشاعۃ السنہ ۱۸۹۲ء- جلد ۱۳ صفحہ ۷ : قاضی عبیدالله مدرسی ۱۸۹۳ء - فتوی در تکفیر منکر عروج جسمی و نزول عیسی علیہ السلام من مطیع محمدی۔مدراس طبع اوّل صفحات ۶۶-۶۷ مطبوعه