مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 45
۴۵ نا قابلِ تردید شہادتوں سے ثابت ہے۔اگر ایسی شہادتوں کو بھی رڈ کیا جاسکتا ہے تو پھر دنیا کا کوئی تاریخی واقعہ بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔۔۔پہلی صدی سے آج تک اُمت کے علما اور فقہا اور مفسرین اور محدثین کا بھی اس بات پر اجماع ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کی خبر صحیح ہے۔۔۔۔جو کچھ احادیث سے ثابت ہے اور جس پر امت کا اجماع ہے وہ کسی مثیل مسیح کی پیدائش نہیں ہے بلکہ عیسی ابن مریم کا نزول ہے۔تمام احادیث بلا استثناء اس امر کی تشریح کرتی ہیں کہ آنے والے وہی ہیں۔کسی حدیث میں عیسی ، کسی میں ابن مریم اور کسی میں عیسی ابن مریم کے الفاظ ہیں۔ظاہر ہے عیسی ابن مریم ایک شخص کا ذاتی نام ہے اور اس کے نزول کی خبر لا محالہ اس کی ذات کے نزول کی خبر ہی ہوسکتی ہے۔اگر کوئی اس خبر کو قبول کرے تو اسے یہ قبول کرنا ہوگا کہ وہی شخص خاص دوبارہ آئے گا جواب سے دو ہزار سال پہلے بنی اسرائیل میں مریم علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔اگر کوئی شخص اسے رڈ کر دے تو اسے سرے سے مسیح موعود کے تخیل ہی کو ر ڈ کر دینا ہو گا۔“ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ان اعتقادات سے اختلاف کی بنیاد الہام الہی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ مسلمانوں کے ساتھ بڑی ہمدردی یہ ہے کہ ان کی اخلاقی حالتوں کو درست کیا جائے اور ان کی ان جھوٹی امیدوں کو کہ ایک خونی مہدی ل : فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت۔مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے دس نکات کے جواب۔نکته ۱-۲