مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 387
۳۸۷ اس پر کوئی عتبار نہیں کر سکتے ! سیشن جج صاحب نے نچلی عدالت کے مہتہ رام کے فیصلے اور طویل سماعت کے بارے میں لکھا کہ ” بہت ہی افسوس ہے کہ ایسے مقدمے میں جو کا روائی کے ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کیا جانا چاہیے تھا اس قدر وقت ضائع کیا گیا ہے۔لہذا ہر دو ملزمان مرزا غلام احمد و حکیم فضل دین بری کئے جاتے ہیں۔ان کا جرمانہ واپس دیا جائے گا“ سے آخری فیصلے کے ساتھ ہی مولوی کرم دین صاحب کے مقدمات کے بارے میں سارے الہامات پورے ہو گئے۔مرزا صاحب کو فتح ہوئی۔جہلم کی عدالت میں پیشی کے لئے اختیار کئے گئے سفروں میں بے انتہا برکتیں حاصل ہوئیں۔مولوی کرم دین صاحب نے مرزا صاحب کی اہانت کی پوری کوشش کی مگر خود عدالت سے کذاب اور لیم کے خطابات پر مہر لگوائی۔چند ولال مجسٹریٹ نے مرزا صاحب کے ساتھ بدسلوکی کی اور مسلسل بدنیتی سے سازش کرتا رہا لیکن ناکام ہوا، تنزلی ہوئی اور ہلاک ہوا۔مہتہ آتما رام نے مرزا صاحب سے بدسلوکی کی لیکن بیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور نوبت پاگل پن تک پہنچ گئی اور بالآ خر مرزا صاحب کا احترام و اکرام قائم کیا گیا۔ل : الحكم قادیان ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۷-۸ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحات ۳۰۹-۳۱۰) : مولوی سمیع اللہ فاروقی - اظہار حق صفحه۱۱-۲۰،۱۲ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحات ۳۱۱-۳۱۲)