مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 386
۳۸۶ چنانچہ ۵/نومبر ۱۹۰۴ء کو مرزا صاحب نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف سیشن جج مسٹر اے۔ای۔ہری امرتسر کی عدالت میں اپیل کی۔مرزا صاحب کو یقین تھا کہ لئیم کے وہ معنی جو مرزا صاحب کا مؤقف تھا عدالت صرف اُنہی کو بالآ خر قبول کرے گی اور ان الہامات کی روشنی میں جو ہم نے اس مضمون کی ابتدا میں درج کئے ہیں ضرور نچلی عدالت کے فیصلے کو رد کر دیا جائے گا تا کہ مرزا صاحب کا احترام و اکرام واضح ہو سکے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور عدالت نے ے جنوری ۱۹۰۵ء کو مولوی کرم دین کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ مرزا صاحب کے حق میں کردیا اور مولوی صاحب کے تمام عذرات رد کر دیئے گئے۔فاضل سیشن جج نے لکھا کہ مستغیث ( مولوی کرم دین۔ناقل ) کذاب اور لیم وغیرہ الفاظ کا بالکل مستحق تھا تا کہ عوام الناس اس بات کا اندازہ لگاسکیں کہ مستغیث کے قول اور فعل کی کیا اہمیت ہونی چاہئے۔مضمون عدالت نے سراج الاخبار میں چھپنے والے مولوی کرم دین صاحب کے مضمو سے ان کے تصنیف کردہ ہونے سے انکار پر لکھا کہ ان سے (مولوی کرم دین سے۔ناقل ) ایک دانستہ منصو بہ چال بازی اور خلاف بیانی اور جعل سازی کا ظاہر ہوتا ہے۔جس پر بے حیائی سے ایک عام اخبار کی سطروں میں دنیا کے سامنے فخر کیا گیا ہے۔۔۔۔اندرونی شہادت سے دلالت ہوتی ہے کہ سوائے مستغیث نے اس تحریر کو جواس کی بیان کی جاتی ہے شناخت میں اس قدر ٹال مٹول کیا ہے کہ ہم : الحکم قادیان ۲۴ / جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۷، ۸ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۳۰۹)