مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 374
۳۷۴ تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا گیا۔میں گیا مجھ سے فرمایا کہ میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سُکوں کہ کیا ہے۔اس وقت کمرے میں کوئی اور آدمی نہ تھا۔میں نے سارا واقعہ سنایا۔حضور خاموشی سے سنتے رہے۔جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا تو یکلخت حضرت صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے۔اور آپ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا۔میں اس کا شکار ہوں میں شکار نہیں ہوں ، میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ایسا کر کے تو دیکھے۔۔۔اور اس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا۔میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہنے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔پھر آپ محبت الہی پر تقریباً نصف گھنٹے تک جوش کے ساتھ بولتے رہے لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی تے ہوئی جو خالص خون کی تھی۔۔۔ڈاکٹر کو بلوایا۔ڈاکٹر انگریز تھا۔۔۔اس نے کہا۔اس وقت آرام ضروری ہے۔میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔۔۔۔خود ہی کہنے لگا۔میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب نے کہا۔فی الحال ایک مہینہ کافی ہوگا۔اس نے فوراً ایک مہینے کے لئے