مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 363
۳۶۳ چنانچہ وہ سفر جو مرزا صاحب نے قادیان سے جہلم تک اس لئے اختیار کیا تھا کہ ایک مقدمے میں ملزم کی حیثیت سے پیش ہو کر اپنی صفائی پیش کریں وہی سفر کئی لحاظ سے آپ کے لئے موجب خیر و برکت ہوا۔اس کے چند شواہد درج ذیل ہیں۔i- لاہور میں مرزا صاحب کا قیام بہت مختصر اور سخت سرد موسم میں تھا یعنی رات گیارہ بجے کے بعد سے صبح نماز فجر تک کا پھر بھی ۴۰ کے لگ بھگ افراد مرزا صاحب کی بیعت میں داخل ہوئے۔اے ii - لا ہور سے جہلم تک کا سفر مرزا صاحب کے لئے بے مثال تعظیم و تکریم کا باعث بنا۔راستہ میں ہر اسٹیشن پر انبوہ خلائق مرزا صاحب کے استقبال اور زیارت کے لئے موجود تھا۔مولوی عبدالواحد صاحب سیالکوٹی نے وزیر آبا در میلوے اسٹیشن پر استقبالیہ ہجوم کا حال یوں بیان کیا کہ وزیر آباد میں ضور علیہ السلام (یعنی مرزا غلام احمد صاحب- ناقل) کی ٹرین ہمارے سامنے دوسرے پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔لوگوں کا ہجوم بہت تھا اور ٹرین کے ڈبے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔یہ دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی کہ ہم لوگ شائد اس میں سوار نہ ہوسکیں گے۔لوگ کثرت سے زیارت کے لئے چلے آرہے ہیں۔پلیٹ فارم پرٹکٹ ٹکٹ کا شور مچ رہا ہے اتنے میں سٹیشن ماسٹر صاحب تشریف لائے اور بکنگ کلرک پر ناراض ہوتے ہوئے بولے ٹکٹ بند کرو گیٹ کھول دولوگوں کو جانے دو ہجوم میں مرزا صاحب کی زیارت کا جوش ہے کھڑ کی جلد بند کر وخطرہ ہے ل : روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۹ - صفحات ۱۸۱-۱۸۲) تاریخ احمدیت۔جلد سوم۔۱۹۶۲ء صفحہ ۱۶۲)