مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 323 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 323

۳۲۳ توں توں آپ کی مخالفت بھی بڑھتی گئی۔مسلمانوں کے ساتھ اس روز روز کے تکفیر کے غلیظ مشغلے کے خاتمے کی خاطر مرزا صاحب نے ۱۸۹۷ء میں ملک کے تمام مشہور ، قابل ذکر علماء اور سجادہ نشینوں کا نام لے کر ان کو مباہلے کی ایک فیصلہ کن دعوت دی تا که حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہو سکے اور تکفیر و تکذیب کا جو فتنہ بڑھتا جا رہا ہے اس سے نجات حاصل ہو سکے۔چونکہ تاریخی اعتبار سے اس مباہلے کے دوررس اور عبرتناک نتائج نکلے اس لئے مناسب ہوگا کہ نتائج کا بیان دینے سے پہلے مرزا صاحب کی مجوزہ مباہلے کی عبارت کے ایک طویل اقتباس پر نظر ڈال لی جائے۔مرزا۔۔۔۔۔۔صاحب نے لکھا کہ سواب چونکہ تکذیب اور تکفیر اُن کی انتہا تک پہنچ گئی اس لئے وقت آ گیا کہ خدائے قادر اور علیم اور خبیر کے ہاتھ سے جھوٹے اور سچے میں فرق کیا جائے۔ہمارے مخالف مولوی اس بات کو جانتے ہیں کہ خدا تعالی۔۔۔پر افتراء کرنا اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں الہام مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے حالانکہ کچھ بھی نہیں ہوا ایک ایسا سخت گناہ ہے کہ اس کی سزا میں صرف جہنم کی ہی وعید نہیں بلکہ۔۔۔ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کر دیتی ہے سو ایک تقوی شعار آدمی کے لئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا۔میں جوان تھا۔جب خدا کی وحی اور الہام کا دعوی کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتدائے دعوئی پر بیس برس سے بھی