مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 318
۳۱۸ IV ڈپٹی کمشنر گورداسپور جی۔ایم۔ڈوئی نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے مرزا صاحب کے متعلق لکھا کہ وو وہ گندے الفاظ جو محمد حسین اور اس کے ساتھوں نے آپ کی نسبت شائع کئے آپ کو حق تھا کہ عدالت کے ذریعے سے اپنا انصاف چاہتے اور چارہ جوئی کرتے اور وہ حق اب تک قائم ہے ہے ڈپٹی کمشنر کے ان الفاظ سے مولوی محمد حسین بٹالوی اور ان کے دوستوں کی دریدہ دہنی اور غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے کا یہاں تک اعتراف کیا گیا کہ وہ عدالت کے نزدیک قابل مواخذہ گردانے گئے۔یہ بھی مولوی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی ایک لحاظ سے تذلیل اور رسوائی تھی۔مرزا غلام احمد قادیانی کی پذیرائی: یہ مقدمہ ایک طرف اپنی تمام جزئیات میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے لئے خجالت ، رسوائی اور نامرادی لایا وہاں دوسری طرف مرزا صاحب کے لئے بے انتہاء پذیرائی کا موجب بھی بنا اور مرزا صاحب کی ان سفروں کے دوران جو آپ مقدمے کی پیروی کے لئے کرتے تھے مقبولیت عوام قابلِ دید تھی۔۲۶ جنوری ۱۸۹۹ء کا دھار یوال میں عدالت میں پیشی کا سفر تو قابل دید تھا۔اس سفر کے کچھ اقتباسات اخبار الحکم قادیان کی ۳۱ / جنوری ۱۸۹۹ء کی اشاعت سے یہاں درج کئے جاتے ہیں : حضرت اقدس ( مرزا غلام احمد قادیانی - ناقل ) معہ رفقا ریلوے له : مرزا غلام احمد قادیانی ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء حقیقت المهدی طبع اوّل صفحات ۱۰ تا ۱۳ : ڈپٹی کمشنر گورداسپور۔فیصلہ ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء ( تاریخ احمدیت۔جلد سوئم - صفحه ۵۶)