مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 296
۲۹۶ ہوں۔(اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دُعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہو کر حضرت اقدس کے حضور معافی و رہائی دی گئی۔اس وقت تو میں ایک مجرم گنہگاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں۔( مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں ) شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔اُمید ہے کہ بارگاہ قدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ نسی نعِدُ لَهُ عرضًا قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمد او جان بوجھ کر نہ کیا جاوے۔وہ قابل راضی نامہ و معافی ہوتا ہے۔فاعفو واصلِحُوا إِنّ اللهَ يُحِبُّ المحسنين - میں ہوں حضور کا مجرم دستخط بزرگ راولپنڈی ۲۹ /اکتوبر۱۶۱۸۹۷ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۰ نومبر ۱۸۹۷ء کو شائع شدہ اشتہار میں اس معافی نامہ کے متعلق لکھا کہ ” خدا تعالیٰ اس بزرگ کی خطا معاف کرے اور اس سے راضی ہو۔66 میں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں۔“ ہے ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۸ء- کتاب البریہ - صفحہ ۸۷ : مرزا غلام احمد قادیانی اشتہار ۲۰ / نومبر ۱۸۹۷ء ( مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد۔حصہ دوم صفحات ۴۷۴ تا ۴۸۲)