مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 287
۲۸۷ پہلے طے ہو چکا تھا کہ کوئی فریق مباہلے کے علاوہ کوئی تقریر کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔حاضرین نے طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی اور گندی تقریر کو سخت ناپسند کیا۔خواجہ یوسف شاہ صاحب رئیس امرتسر منشی غلام قا در فصیح اور دیگر معززین کے مجبور کرنے کے باوجود مولوی صاحب مباہلے پر راضی نہ ہوئے۔ان معززین کی کوششوں کو رائیگاں جاتا دیکھ کر مرزا صاحب اپنے طور پر مولوی عبدالحق صاحب کے ساتھ مباہلے کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا تعالیٰ سے صرف اپنے لئے دُعا کی کہ اگر میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے ہلاک کر دے۔تین بار دُعا کے الفاظ دُہرائے لیکن مولوی عبد الحق کے لئے کوئی بددعا نہ کی۔دوسری طرف نہ صرف مولوی عبدالحق صاحب اور دیگر مولوی صاحبان نے جوابی مباہلہ نہ کیا بلکہ اس یک طرفہ مباہلے کے اختتام پر مولوی صاحبان نے مرزا صاحب کے دعاوی پر بحث کرنے کے لئے شور مچادیا۔مرزا صاحب نے بحث بھی منظور کر لی لیکن مولوی صاحبان نے اپنے درمیان مشورہ کرنے کے لئے کچھ مہلت مانگی اور مشورے کے بہانے مسجد محمد جان کے حجرے میں چھپ کر باہر سے قفل لگا لیا۔جب وہاں بھی لوگوں نے ڈھونڈ لیا تو مولوی غلام اللہ قصوری نے علماء کو یہ مشورہ دیا کہ مرزا صاحب سے بحث سے انکار نہ کرنا یہ کہہ دو کہ بحث تو ہوگی مگر کابل یا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں ہوگی نہ وہاں جائیں گے نہ مباحثہ ہوگا۔ا : شیخ نور احمد صاحب - رسالہ نور احمد۔نمبر صفحات ۳۳ تا ۳۵ ( تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحات ۲۷۷ تا ۳۸۰)