مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 280 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 280

۲۸۰ مجلس میں میرے تمام دلائل سن کر تین مرتبہ قسم کھا کر کہ دیں کہہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ بجسد عصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں اور یہی میرا عقیدہ ہے۔اس پر اگر ایک سال کے اندر اندر آپ خدا کے عبرتناک عذاب سے بچ نکلیں تو میں جھوٹا ہوں۔چنانچہ دلی کے لوگوں کے مجبور کرنے پر اس مقصد کے لئے ہزاروں لوگوں کا ایک اجتماع ۲۰ راکتو برا ۱۸۹ء کو دلی کی جامع مسجد میں جمع ہوا۔مرزا صاحب کو قتل کی متعدد دھمکیاں مل رہی تھیں لیکن پھر بھی آپ ظہر اور عصر کی نمازیں۔ظہر کے وقت جمع کر کے اپنے احباب کے ہمراہ جامع مسجد کے محراب کے پاس جا پہنچے۔تھوڑی دیر کے بعد مولوی نذیرحسین صاحب مع مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی عبدالمجید انصاری وغیرہ بھی مسجد میں تشریف لے آئے۔لوگ منتظر تھے کہ مباحثہ شروع ہو یا مولوی سید نذیر حسین قسم کھا لیں تاکہ کوئی فیصلہ ہو لیکن جب کافی انتظار کے بعد بھی مولوی صاحب مرزا صاحب کی طرف راغب نہیں ہوئے تو مولوی سید نذیر حسین صاحب جو سخت پریشان نظر آ رہے تھے مرزا صاحب نے اُن کی طرف ایک رقعہ لکھ کر انہیں دعوت دی کہ وہ آ کر بحث شروع کریں یا مؤکد بعذاب قسم ہی کھائیں لیکن مولوی نذیر حسین صاحب نے آخر کار ہر چیز سے انکار کر دیا اور پولیس افسر جو امن و امان کا ذمہ دار تھا اس کے سامنے یہ عذر پیش کر دیا کہ یہ شخص ( یعنی مرزا صاحب ) عقائد اسلام سے منحرف ہے جب تک اپنے عقائد کا ہم سے تصفیہ نہ کر لے ہم حیات و وفات مسیح کے بارے میں اس سے ہرگز بحث نہ کریں گے۔اے 1 : پیر سراج الحق نعمانی ۱۹۰۳ء - تذکرۃ المہدی حصہ اوّل صفحه ۳۴۹-۳۵۰