مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 274
۲۷۴ مناسب ہے کہ ان سب میں سے وہ مولوی صاحب جو کمالات علمی میں اول درجے کے خیال کئے جائیں وہی فریق ثانی کی طرف سے مختار مقرر کئے جائیں۔۔۔اے (۱) مرزا صاحب کے اس چیلنج کے جواب میں اکثر علماء تو خاموش رہے لیکن پیر سراج الحق صاحب جو مرزا صاحب کے مرید تھے اور مولوی رشید احمد گنگوہی کے ہم زلف تھے اُن کی ذاتی کوشش سے مولوی صاحب اس شرط پر مباحثے کے لئے تیار ہوئے کہ بحث تقریری اور صرف زبانی ہوگی اور تحریری ہرگز نہ ہوگی۔مرزا صاحب نے جوا با لکھوایا کہ بحث تحریری ہونی چاہئے تا کہ چھپ سکے اور جو لوگ حاضر نہ ہوں وہ بھی بعد میں پڑھ کر حقیقت سے آگاہ ہو سکیں لیکن اگر مولوی صاحب کو منظور نہ ہو تو مباحثہ بے شک تقریری ہو لیکن وہ اس قد ر ا جازت دے دیں کہ مولوی صاحب تقریر کرتے جائیں اور کوئی دوسرا شخص آپ کی تقریر لکھتا جائے اور جب تک کوئی ایک شخص تقصیر کر رہا ہو کسی دوسرے کو اس دوران بولنے کی اجازت نہ ہو اور یہ مباحثہ لا ہور جیسی مرکزی جگہ پر ہو۔مولوی رشید احمد گنگوہی نے تینوں شرائط رڈ کر دیں اور کہا کہ دوران تقریر کسی کو ایک لفظ لکھنے کی اجازت نہ ہو گی۔حاضرین میں سے جس کا جی چاہے دوران تقریر اپنے شکوک کو رفع کرنے کے لئے بول سکتا ہے اور یہ کہ میں لا ہور نہیں آ تا مرزا صاحب سہارن پور آ جائیں۔مرزا صاحب نے پھر پیر سراج الحق کے ذریعے لکھوایا کہ مرزا صاحب مرزا غلام احمد قادیانی - اشتہار ۲۶ / مارچ ۱۸۹۱ء ( مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد جلد اوّل صفحات ۲۰۲-۲۰۳