مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 271
۲۷۱ محنت کا کر سکیں یا کوئی لمبی گفتگو یا تقریر کرسکیں لیکن پھر بھی اس خیال سے کہ موقع غنیمت تھا کہ لوگوں کو اسلام کی حقیقی روح کے بارے میں کچھ رہنمائی کر دیں اور پھر اُن کو تو یہی عشق تھا اور یہی اُن کی دلی خواہش رہتی تھی کہ اسلام کی خوبیاں بیان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔آپ نے باوجود طبیعت ناساز ہونے کے اس بات پر رضا مندی ظاہر کر دی کہ وہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت کے موضوع پر تقریر کریں گے۔چنانچہ اس لیکچر کے بارے میں اشتہار بھی شائع کر دیا گیا اور سب تیاری مکمل ہوگئی۔لیکچر کا وقت قریب آیا تو مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہاما اس لیکچر سے روک دیا گیا۔اس پر مرزا صاحب نے لیکچر دینے کا ارادہ ترک کر دیا اور مولوی صاحب موصوف کو بھی اس سے مطلع کر دیا۔سید تفضل حسین صاحب نے بھی عرض کی کہ حضور اب تو ساری تیاری ہو چکی اگر اب لیکچر نہ ہوا تو بڑی بدنامی ہوگی۔مرزا غلام احمد صاحب نے جواباً کہا کہ خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کام کریں گے۔جب اور لوگوں نے بھی مرزا صاحب سے لیکچر کے لئے اصرار کیا تو آپ نے جواب دیا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں خدا کا حکم چھوڑ دوں۔اس کے حکم کے مقابل میں مجھے کسی ذلت کی پرواہ نہیں۔مولوی محمد اسمعیل صاحب نے مرزا صاحب کے غذرکو نیک ظنی سے دل میں جگہ نہ دی بلکہ اسے مرزا صاحب کی دروغگو ئی سمجھا اور اگلے دن نماز جمعہ کے بعد مرزا صاحب کے خلاف ایک زہریلی تقریر کی جسے اُن کی اجازت سے لکھ کر مشتہر کر دیا گیا۔ان کی تقریر کے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں: میں نے اُس سے ( یعنی مرزا غلام احمد صاحب سے۔ناقل ) کہا