مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 189 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 189

۱۸۹ سے مرزا صاحب کو ذاتی طور پر یا بذریعہ مختار کار۱۰ اگست ۱۸۹۷ء کو بٹالہ میں عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت کی۔اس طرح مرزا صاحب اس تو ہین سے محفوظ رہے جس کا ہتھکڑی لگنے کی صورت میں امکان تھا اور جس کے لئے آپ کے مخالفین مدتوں سے منتظر تھے۔مرزا صاحب کے پیروکاروں کا یہ کہنا قابلِ یقین لگتا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے یکم اگست کے جاری کردہ وارنٹ کا منسوخی کے دن یعنی ۷ را گست تک گم ہو جانا اور منزل تک نہ پہنچنا اپنے اندر الیسا الہی تصرف رکھتا ہے جس کا مقصد مرزا صاحب کے وقار کو قائم رکھنا تھا۔II۔دوسرے دن یعنی ۰ ا را گست ۱۸۹۷ء کو مرزا غلام احمد صاحب بٹالہ پہنچ گئے۔آپ کے پیروکاروں نے بٹالہ میں عیسائی مشن ہاؤس کے پاس آپ کا استقبال کیا اور وہاں آپ یکے سے اُتر کر پیدل ہی عدالت کی طرف روانہ ہو گئے۔راستے میں مقدمے کے سرسری ذکر پر مرزا صاحب نے فرمایا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے خبر دے دی ہے اور ہم تو اُس کی تائید و نصرت کا انتظار ہی کر رہے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے آغاز پر ہم خوش ہیں اور اس کے انجام بخیر ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ہمارے دوستوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔‘1 گفتگو کے دوران کسی صاحب نے مرزا صاحب کو بتایا کہ آریہ حضرات اور مسلمانوں کی طرف سے مولوی محمد حسین بٹالوی بھی عیسائیوں کے ساتھ مل گئے ہیں اور وہ آپ کے خلاف اس مقدمہ میں کامیابی کی پوری اُمید رکھتے ہیں۔اس پر : دوست محمد شاہد - تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۴۵۹