مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 178
KA لیکن پادری عبد اللہ اعظم صاحب ان تمام ترتیبات کے باوجود قسم کھانے پر آمادہ نہیں ہوئے جس پر مرزا صاحب نے لکھا کہ مگر تا ہم یہ کنارہ کشی آتھم کی ( یعنی قسم سے انکار کرنا ) بے سود ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔نادان پادریوں کی تمام یا وہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔تم اس جرم سے بری نہیں کہ اُس نے حق کو اعلانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا۔- پادری عبد اللہ آتھم کی وفات پر مرزا صاحب کے تبصرے: آخر کار پادری عبد اللہ آتھم صاحب ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پورفوت ہو گئے جس کا اس کے دوستوں کو بہت افسوس ہوا۔ایک صاحب تو ان کی موت کے غم میں مر ہی گئے۔پادری صاحب کی وفات کے بعد میاں حسام الدین صاحب عیسائی کی طرف سے اُن کے اخبار کشف الحقائق میں مرزا غلام احمد صاحب پر الزام لگایا گیا کہ آتھم صاحب کو مارنے کے لئے وحشیانہ حرکتیں کی گئیں۔اُن کے گھر میں زندہ سانپ چھوڑے گئے اور اُن کو زہر کھلانے کی تجویز کی گئی۔مرزا صاحب نے آتھم صاحب کی موت اور اس بہتان کا اپنی کتاب انجام آتھم میں تفصیلی جواب دیا۔آپ لکھتے ہیں کہ ۳۰ / دسمبر ۱۸۹۵ ء تک ہماری طرف سے اُس کو تبلیغ ہوتی رہی کہ شائد وہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے سچی گوہی ادا کر دے۔پھر ہم نے تبلیغ کو چھوڑ دیا اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کے انتظار میں لگے سو : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۵ ء - ضیاء الحق مطبوع مئی ۱۸۹۵ء