مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 161
۱۶۱ رائے ہے بلکہ در حقیقت میں اس مضمون کے پڑھنے سے ایسا خوش ہوا کہ میں اس مختصر خط میں اسکی کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ یہ روز کے جھگڑے اچھے نہیں اور ان سے دن بدن عداوتیں بڑھتی ہیں اور فریقین کی عافیت اور آسودگی میں خلل پڑتا ہے۔۔۔۔اس لئے میں آپ لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اس کام کے لئے میں ہی حاضر ہوں۔جس حالت میں دونوں فریقوں کا یہ دعویٰ ہے کہ جس نور کو اُن کے انبیاء لائے تھے وہ نور فقط لازمی نہیں تھا۔بلکہ متعدی تھا تو پھر جس مذہب میں یہ نور متعدی ثابت ہوا اس کی نسبت عقل تجویز کرے گی کہ یہی مذہب زندہ اور سچا ہے کیونکہ اگر ہم ایک مذہب کے ذریعے سے وہ زندگی اور پاک نور معہ اُس کی تمام علامتوں کے حاصل نہیں کر سکتے جو اُس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے تو ایسا مذہب بجز لاف و گزاف کے زیادہ نہیں۔اب دنیا میں زندہ مذہب صرف اسلام ہے اور اس عاجز نے اپنے ذاتی تجارب سے دیکھ لیا اور پرکھ لیا کہ دونوں قسم کے نور اسلام اور قرآن میں اب بھی ایسے ہی تازہ بتازہ موجود ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت موجود تھے اور ہم اُن کو دکھلانے کے لئے ذمہ دار ہیں۔اگر کسی کو مقابلہ کی طاقت ہے تو ہم سے خط و کتابت کرے۔والسلام على من التبع الهدی۔بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اس عاجز کے مقابلہ پر جو صاحب کھڑے ہوں وہ کوئی بزرگ نامی اور معزز انگریز پادری صاحبوں میں سے ہونے چاہئیں کیونکہ جو بات