مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 157 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 157

۱۵۷ ہندوستان میں عیسائی مشنوں کے ایک مختصر جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے چرچ مشنری سوسائٹی (۔C۔M۔S) نے ۱۷۹۹ء میں تبلیغی کام ہندوستان میں شروع کیا لیکن انیسویں صدی میں کئی مشنری سوسائٹیوں نے کام کرنا شروع کر دیا ان کے صدر مقام جرمنی، انگلستان اور امریکہ وغیرہ میں تھے۔۱۹۰۱ء میں ان سوسائٹیوں کی تعداد ۳۷ کے لگ بھگ تھی جن کے تحت سینکڑوں عیسائی مشنری ہندوستان کے طول و عرض میں کام کر رہے تھے۔اس کے علاوہ بہت سے عیسائی مشنری ایسے تھے جو ان سوسائٹیوں سے منسلک نہ تھے بلکہ الگ تبلیغ کا کام کر رہے تھے۔پنجاب کا علاقہ ان کے لئے بڑا زرخیز ثابت ہو رہا تھا۔یہاں کے تیرہ بڑے شہروں میں ان کے مشہور مشن قائم تھے۔ان میں سے ایک مشن امرتسر میں چرچ مشنری سوسائٹی نے ۱۸۵۲ء میں قائم کیا۔- جنڈیالہ مشن کی کارکردگی اور مرزا صاحب سے تعارف: جنڈیالہ (ضلع امرتسر ) میں عیسائی مشن کی بنیا د ۱۸۵۴ء میں رکھی گئی جب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک ایم۔ڈی سی۔ایم (ایڈنبرا ) ایم۔آر۔اے۔ایس سی۔ایم۔الیس ضلع امرتسر کے میڈیکل مشنری انچارج بنے تو انہوں نے ۱۸۸۲ء میں امرتسر میڈیکل مشن کی ایک شاخ جنڈیالہ ضلع امرتسر میں کھول دی۔اس سے عیسائیوں کی تبلیغی مساعی کو اور فروغ حاصل ہوا۔اگر چہ عیسائیوں کی تبلیغی سرگرمیاں سارے پنجاب میں زور وشور سے جاری تھیں لیکن جنڈیالہ میں جب میڈیکل مشن کی آڑ لے کر عیسائی مشنریوں کی کوششوں میں اضافہ ہوا تو اس قصبے کے ایک غیرت مند مسلمان