مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 152 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 152

۱۵۲ اثر ورسوخ تھا اس لئے وہ مرزا صاحب کی کا وشوں کو آسانی سے برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے چنانچہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر مرزا صاحب کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔اگر چہ ایسے بہت سے واقعات گذرے جن میں عیسائیوں نے اپنے اثر ورسوخ کے بل بوتے پر مرزا صاحب کو گزند پہنچانے کی سعی کی یا قانون کے شکنجے میں کسنے کی کوشش کی یا جھوٹے مقدمات میں پھنسانا اور سزا دلانی چاہی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ہم یہاں نمو تا چند ایسے واقعات کی روداد لکھ رہے ہیں جن سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ سارا زور لگانے کے باوجود مرزا صاحب کے مخالفین کو ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا۔اُن کی دنیا وی وجاہت، حکام کے ساتھ تعلقات اور حکام کا ان سے ہم مذہب ہونا کسی کام نہ آیا۔-1 رلیا رام عیسائی وکیل اور افسران محکمہ ڈاک امرتسر کی ملی بھگت سے مرزا صاحب کے خلاف فوجداری مقدمہ: مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی زندگی کا پہلا مقدمہ محکمہ ڈاک امرتسر کی طرف سے آپ کے خلاف ۱۸۷۷ء میں گورداسپور کی عدالت میں دائر کیا گیا۔اس میں رلیا رام عیسائی وکیل نے بطور منجر گواہی دی۔تا کہ مرزا صاحب کو جرمانہ یا سزا دلوائی جاسکے۔مرزا صاحب نے اس کی وجوہات اور نتائج کو اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج کیا ہے جنہیں تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد کے صفحات ۲۰۷ سے ۲۰۹ پر اور تذکرہ کے صفحات ۲۶ سے ۲۸ پر بھی شائع کیا گیا ہے۔ہم اس واقعہ کو