مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 102
۱۰۲ اس تو ہین سے جو ہمارے رسول کی کی گئی دُکھا ! اسلام پر اس پر آشوب دور میں جب قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے تھے اور بقول مولوی ابو الحسن ندوی عوام پر یاس و نومیدی کا غلبہ تھا اور وہ کسی ملہم اور موید من اللہ کے منتظر تھے۔وہ اسلام کا شیدائی دشمنان اسلام کے مقابلے کے لئے میدان میں آ گیا جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔مرزا صاحب نے اسلام کی صداقت کے ثبوت میں لٹریچر شائع کرنے اور عوام و خواص پر اسلام کی خوبیوں کو واضح کرنے کا ایک زبر دست سلسلہ شروع کیا۔آپ نے اشاعت لٹریچر کی ابتداء اپنی کتاب براہین احمدیہ سے کی جس کی یکے بعد دیگرے جلدیں شائع کی گئیں اور ۱۸۸۰ء سے شروع ہو کر ۱۹۰۸ء میں ختم ہوئیں۔یہ کتاب کیا تھی کس اہمیت کی حامل تھی اس کی کس قدر پذیرائی ہوئی اس پر چند تبصرے ہم اس کتاب کے پہلے باب میں درج کر آئے ہیں یہاں اس کو دہرانا مقصود نہیں صرف مرزا صاحب اور پنڈت لیکھرام صاحب کے مابین روحانی مقابلے کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے مولوی سیدابوالحسن ندوی صاحب کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے جو براہین احمدیہ کی تصنیف کے ۸۶ سال بعد لکھا گیا۔براہین احمدیہ کی تصنیف ۱۸۷۹ء سے شروع ہوتی ہے“ سے کتاب کا مرکزی مضمون اور جو ہر یہ ہے۔کہ الہام کا سلسلہ نہ منقطع ہوا ہے اور نہ اس کو منقطع ہونا چاہئے یہی الہام دعوی کی صحت اور ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۳ء- آئینہ کمالات اسلا مطبع ریاض ہندا مرتسر صفحات ۲۹-۳۰ : مولوی سید الوالحسن ندوی ۱۹۶۶ء- قادیانیت طبع دوئم لا ہور صفحہ ۴۶