مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 97
۹۷ سکتا کیونکہ سچ کے مقابلہ میں جھوٹ کی کچھ پیش نہیں جاتی اور اگر کوئی آریہ صاحب ان تمام وید کے اصولوں اور اعتقادات کو جو اس کتاب میں رڈ کئے گئے ہیں سچ سمجھتا ہے اور اب بھی دید اور اس کے ایسے اصولوں کو اینشرکرت ہی خیال کرتا ہے تو اس کو ایشر کی قسم ہے کہ اس کتاب کا رڈ لکھ کر دکھاوے اور پانچ سو روپے انعام پاوے۔یہ پانچ سو روپیہ بعد تصدیق کسی ثالث کے جو پادری یا برہمو صاحب ہوں گے دیا جائے گا۔اس قسم کے علمی مباحثوں میں خاص طور پر جن میں دو مذاہب کی مبادیات زیر بحث ہوں صرف غیر جانبدار اصحاب علم کی رائے ہی اہم سمجھی جاتی ہے اگر چہ مباحثے کے وقت موجود حاضرین کی ایک بھاری تعداد ماسٹر مرلی دھر صاحب کے رویے کو شکست کی صورت تعبیر کر رہی تھی جس سے ویدوں کی حقانیت پر زد پڑ رہی تھی لیکن مرزا صاحب نے اسے من وعن شائع کر کے ہمیشہ کے لئے غیر متعصب قارئین کے لئے محفوظ کر دیا۔ہم نیچے تین ایسے تبصرے درج کر رہے ہیں جو اس لحاظ سے غیر جانبدار ہیں کہ ان میں سے ایک عیسائی اخبار کا اس کتاب یعنی سرمہ چشم آریہ پر تبصرہ ہے اور دوسرے دو ایسے مسلمان عالموں کے تبصرے ہیں جو ساری عمر مرزا صاحب کے شدید مخالفین میں شامل رہے۔ملاحظہ فرمائیے۔-۱- تبصرہ مشہور اہلِ حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ا : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۸۶ ء - سرمه چشم آریہ صفحات ۷۳-۷۴، اشتہار انعامی پانسورو پی ٹائٹل آخر صفحات ۳۲۱-۳۲۲