مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 90
بھر مار کی کہ مولوی ان کا کوئی جواب نہ دے سکے اور میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔جس کا یہ اثر ہوا کہ مولوی نور اللہ کئی مسلمانوں سمیت آریہ ہو گئے۔آریہ ویروں نے جگہ جگہ شدھی سبھا قائم کر کے مسلمانوں میں پر چار کرنا شروع کر دیا۔اگر آریہ سماجی دوست اس پوتر کام کو جاری رکھتے تو مسلمانوں کا کثیر حصہ ویدک دھرم کی شرن میں آجاتالیکن آریہ سماج کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو موقع مل گیا۔اس نے آریہ سماج کے خلاف سفیر ہندا مرتسر میں مضامین کا ایک لمبا سلسلہ شروع کر دیا اور اس میں سوامی دیانند جی مہاراج کو بھی چیلنج کر دیا۔چونکہ سوامی دیانند جی مہاراج اُن دنوں راجستھان کا دورہ کر رہے تھے اس لئے انہوں نے منشی بختاور سنگھ اور منشی اندر من مراد آبادی سے کہا کہ وہ ان کا چیلنج منظور کر لیں لیکن افسوس کہ انہیں ایام میں بعض وجوہ کی بنا پر سوامی جی نے اندر من مراد آبادی کو آریہ سماج سے نکال دیا اس لئے یہ مناظرہ نہ ہو سکا۔مرزا غلام احمد نے اس درگھٹنا سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور آریوں کے خلاف ایسا زہریلا لٹریچر لکھا کہ جس نے مسلمانوں کے دلوں میں آریہ دھرم کے متعلق سخت نفرت پیدا کر دی۔“ اگر چہ مہاشہ دیودت نے آریہ سماج کی ناکامی اور مرزا غلام احمد صاحب کی کامیابی کی وجہ آریہ سماج کے اندرونی اختلافات کو قرار دیا ہے لیکن رسالہ برادر ہند کی جولائی ۱۸۷۸ء اور رسالہ جیون دھر کی ۱۵/ جولائی ۱۸۸۶ء کے شماروں سے پتہ چلتا لے : مہاشہ دیودت - آریہ سماج اور پر چار کے سادھنا۔صفحہ ۱۲