معجزات القرآن

by Other Authors

Page 9 of 126

معجزات القرآن — Page 9

" “ 15 موصوف کی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہوئی۔آپ کے والد ماجد نے 13 سال کی عمر میں آپ کو قادیان بھجوایا۔اس کی تقریب یوں پیدا ہوئی۔بچپن میں خواب میں دیکھا تھا کہ قرآن شریف سورۃ فاتحہ سے والناس تک میرے سینہ میں چمک رہا ہے۔جب یہ خواب اپنے والد صاحب کو سنائی تو انہوں نے دینی تعلیم کے حصول کیلئے قادیان بھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔( الفضل 29 جولائی 1982ء) اس طرح مولانا موصوف 22 مارچ 1921ء کو قادیان پہنچے۔1922ء سے 1929 ء تک آپ کو حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا ہم جماعت رہنے کا شرف حاصل ہوا۔1929ء میں آپ نے مولوی فاصل کا امتحان پاس کیا۔1930 ء۔1931ء میں جامعہ احمدیہ میں مبلغین کورس کرتے رہے جہاں نمایاں کامیابی حاصل کی۔اسی عرصہ میں آپ نے جامعہ احمدیہ رسالہ کے دو شمارے مرتب کئے جن میں ایک سالانہ نمبر دسمبر 1930 ء تھا جو بے حد مقبول ہوا۔چونکہ والدین کا انتقال ہو چکا تھا اس وجہ سے آپ مستقل قادیان کے ہو گئے۔جہاں آپ کا سینہ قرآن کے نور سے روشن ہوا۔اسی دوران 1931ء میں آپ کا نکاح محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ بنت صو بیدار میجر حضرت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب صحابی حضرت مسیح موعود سے ہوا جو حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعود نے پڑھایا۔اعلان نکاح الفضل قادیان 25 اگست 1931 صفحه 2) جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بہاولپور میں بطور مبلغ مقرر کئے گئے۔جہاں آپ نے کچھ عرصہ خدمت کی توفیق پائی یہاں تک کہ آپ کو مدرسہ احمدیہ میں بطور استاد متعین کیا گیا۔آپ نے تدریسی فرائض 1935 ء تک سرانجام دیئے۔“ 16 اسی دوران 2 جولائی 1933ء کوحضرت خلیفتہ مسیح الثانی نے آپ کا تقرر بطور قاضی سلسلہ کیا۔1934ء میں آپ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔اور 1935ء میں پہلے سیکرٹری نیشنل لیگ قادیان مقرر ہوئے۔1937ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی زیر نگرانی ناظم کار خاص رہے۔1938ء میں نصرت گرلز ہائی سکول قادیان میں بطور معلم کا م کیا۔مارچ 1939 ء سے مارچ 1944 ء تک اپنے وطن میں قیام پذیر رہے جبکہ اس دوران آپ نے ادیب فاضل، منشی فاضل اور ایف اے کے امتحان پاس کئے۔1944ء میں آپ کو جامعہ احمدیہ میں پروفیسر لگا دیا گیا۔جہاں 1956 ء تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔اور بالآخر آنکھوں کی تکلیف کے باعث درس و تدریس کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔تاہم 1964 تا 1966ء کا عرصہ مکرم چودھری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی کی خواہش پر کراچی تشریف لے گئے جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعض عربی کتب کا ترجمہ کیا۔1975ء میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے حضرت مصلح موعود کی تحریر فرمودہ تفسیر سورہ کہف کا عربی میں ترجمہ کرنے کا محترم مولانا محمد صادق صاحب سماٹری کو ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی آپ کو ان کی مدد کے لئے مقرر کیا گیا۔مولا نا موصوف کو عربی اردو اور فارسی زبانوں پر عبور اور دسترس حاصل تھی۔چنانچہ آپ تینوں زبانوں کے قادر الکلام شاعر تھے۔سلسلہ کے اخبارات اور رسائل میں آپ کا شائع شدہ کلام اس کا ثبوت ہے۔1980ء میں پہلی مرتبہ پھر 2010ء میں اور اب 2015ء میں یہ شعری مجموعہ کلام ظفر کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔قرآن کریم سے آپ کو گہرا شغف اور بے پناہ محبت تھی۔قرآن کریم کے رموز و