معجزات القرآن — Page 10
”“ 17 اسرار اور حقائق و معارف کے جاننے میں منہمک رہتے۔مقطعات قرآنی اور علم الاعداد کا گہرا علم رکھتے تھے۔چنانچہ پانچ بیش قیمت کتب کے مسودات تحریر کئے۔1۔ہمارا قرآن اور اس کا اسلوب بیان۔2۔قرآن زمانے کے آئینہ میں ( كتاب هذا ) 4۔سوانح صوفیا (1951 ء شائع شدہ) 5۔حروف مقطعات کی حقیقت حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے درس القرآن میں حروف مقطعات میں پوشیدہ پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ایک احمدی سکالر مکرم مولوی ظفر محمد صاحب تھے جو حروف مقطعات کی تحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے تھے اور بڑی محنت سے ان پر تحقیق کیا کرتے تھے۔انہوں نے مقطعات کی روسے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث ہوں گے۔چونکہ خلیفہ وقت کی زندگی میں کسی اور کی خلافت کے بارہ میں سوچنا یا نام لینا منع ہے۔انہوں نے اپنی تحقیق کو لکھ کر بند کر کے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو دے کر یہ استدعا کی کہ میری وفات کے بعد اس کو کھولا جائے یا جب میں آپ سے درخواست کروں۔بعد میں یہ ثابت ہوا کہ یہ پیشگوئی صحیح تھی۔مولوی ظفر محمد صاحب ایک دن میرے پاس تشریف لائے۔اس وقت میں وقف جدید میں خدمات سرانجام دے رہا تھا۔مولوی صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے چوتھے خلیفہ کا نام بھی معلوم کر لیا ہے لیکن میں آپ کو بتاؤں گا نہیں ( جبکہ اپنی ڈائری میں انہوں نے لکھ لیا تھا)۔“ 18 جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلافت عطا کی تو ان کی وفات اس سے قبل ہو چکی تھی تو میں نے ان کے بچوں خصوصاً ان کے بڑے بیٹے سے کہا کہ ڈائری کا وہ صفحہ تلاش کریں کہ کس قرآنی سورۃ سے انہوں نے یہ اخذ کیا ہے۔ان کے بڑے بیٹے نے مجھے بتایا کہ ان کی ایک ڈائری تھی جو اپنے پاس رکھا کرتے تھے وہ اب ہمیں مل نہیں رہی۔۔میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کسی سورۃ اور کون سے حروف مقطعات سے انہوں نے اخذ کیا ہے کہ چوتھے خلیفہ کون ہوں گے۔“ 66 فرمایا ”جب میں ماضی کے واقعات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ جب وہ میرے پاس آئے تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی ایک روشنی تھی وہ مجھے خلیفہ رابع کے بارہ میں بتانا چاہتے تھے اس کے باوجود انہوں نے اظہار نہ کیا۔“ مزید فرماتے ہیں: ”اس سے میرا نظریہ تقویت پکڑتا ہے کہ واقعی اس میں آنے والے زمانہ کے لئے بھی پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہوتی ہیں۔“ حضرت صاحب فرماتے ہیں : ” ان حروف مقطعات کو مختلف لوگوں نے مختلف انداز میں سمجھنے کی کوشش کی ہے اور مختلف نتائج اخذ کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی تعلیمات اور ارشادات کا غیر خواہ کچھ ہی مطلب نکالیں لیکن احمدی اپنے ظرف اور بساط کے مطابق ان تعلیمات سے فیض پاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ظفرمحمد صاحب نے حروف مقطعات کے بارہ میں ایسا طریق اخذ کیا جس سے مذکورہ بالا دو باتیں قبل از وقت بتائیں جو صیح ثابت ہوئیں۔“ ( درس القرآن انگریزی 10 جنوری 1987 سورۃ آل عمران بحوالہ روزنامه الفضل 2 ستمبر 2004 صفحہ 4) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کے ایک پروگرام مورخہ 15 مارچ1994ء میں فرمایا: مولوی ظفر محمد صاحب ظفر مرحوم و مغفور۔۔۔۔آپ کا، میرے