معجزات القرآن — Page 79
”“ 155 “ 156 یہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے مبارک عہد کی آئینہ دار ہے۔اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت مجددالف ثانی اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی اور حضرت سید احمد بریلوی یہ تینوں بزرگ اسلام کی نشاۃ اولیٰ اور نشاۃ ثانیہ کے مابین ایک عبوری دور کی حیثیت رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے نام کے اعتبار سے تینوں احمد تھے اور اپنی نسل کے اعتبار سے تینوں قریش میں سے تھے جس کے معنے یہ ہیں کہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ ان کی آمد کے بعد آہستہ آہستہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف منتقل ہورہی تھی۔ان کے بعد غلام احمد قادیانی تشریف لائے تو وہ غیر امی قوم سے پیدا ہوئے اور غلام حلیم کی بجائے غلام علیم کہلائے۔اب ہم سورۃ مریم کے متعلق دو ایسی شہادتیں پیش کرتے ہیں جن کا تعلق آسمان سے ہے نہ کہ زمین سے۔دونوں شہادتیں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ سورۃ مریم کا تعلق مسیح محمدی کی پیدائش اور ظہور سے ہے اور یہ کہ سورۃ مریم میں جس بیٹے کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی وہی بیٹا سورۃ طہ میں ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ شہادتیں حسب ذیل ہیں:۔شہادت نمبرا:۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ وو۔۔۔۔۔۔والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہماری بڑی ہمشیرہ کو ایک دفعہ کسی بزرگ نے خواب میں ایک تعویذ دیا تھا۔بیدار ہوئیں تو ہاتھ میں بھوج پتر پرلکھی ہوئی سورۃ مریم تھی“۔شہادت نمبر ۲:۔پھر آسمان پر ایک بڑا نشان دکھائی دیا یعنی ایک عورت نظر آئی جو آفتاب کو اوڑھے ہوئے تھی اور چاند اس کے پاؤں کے نیچے تھا اور بارہ ستاروں کا تاج اُس کے سر پر۔وہ حاملہ تھی اور دردزہ میں چلاتی تھی اور بچہ جنے کی تکلیف میں تھی۔(مکاشفہ یوحنا عارف باب نمبر 12 آیت 2,1) اس دوسری شہادت میں آفتاب سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بارہ ستاروں سے مراد بارہ مجددین ہیں اور چاند سے مراد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہیں۔سوظاہر ہے کہ جو عورت دردِ زہ میں مبتلا تھی اس سے مراد امت محمدیہ ہے۔ایسے ہی سورۃ مریم “ میں حضرت مریم کے دردزہ کا جو ذکر آیا ہے اس کے پردے میں بھی یہی حقیقت ظاہر کی گئی ہے کہ اُمت محمد یہ تیرھویں صدی میں دردِ زہ میں مبتلا ہوگی اور وہ بچہ جنے کی تکلیف میں ہوگی۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 34