معجزات القرآن — Page 78
”“ 153 فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا ( مريم : 23) ترجمہ: پس اسے اس کا حمل ہو گیا اور وہ اُسے لئے ہوئے ایک دور کی جگہ کی طرف ہٹ گئی۔ان الفاظ میں ”قصيا “ اس حقیقت کا حامل ہے جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں المَسْجِدِ الْأَقْصَا کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔سورۃ بنی اسرائیل میں ہجرت کا ذکر ہے اور سورۃ مریم کے متعلق پہلے یہ بتایا جاچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی کے مقابل اس کا ملی زندگی میں وہی مقام ہے جو غار ثور سے نکل کر مدینے تک سفر کرنے کا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرماتے ہوئے جس اونٹنی پر سفر کیا تھا اس کا نام قصوا تھا اور ملت نے جس جہت کو سفر کیا اس کا نام المَسْجِدِ الْأَقْصَا رکھا گیا اور سورۃ مریم میں بتایا گیا کہ مسجد اقصیٰ مشرق کی طرف ہے اور بہت دور ہے سو یہ تینوں لفظ اقصیٰ ، قصوا اور قصیا ایک ہی حقیقت کے حامل ہیں۔آگے فرمایا: فَنَادَيهَا مِن تَحْتِهَا الَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سيريا (مریم: 25) ترجمہ: تب ایک (پکارنے والے نے ) اسے اس کی زیریں طرف سے پکارا کہ کوئی غم نہ کر۔تیرے رب نے تیرے نشیب میں ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔اس آیت میں لفظ سریا سے یہ خیال گزرتا ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ سری نگر کے شہر کا نام اسی لفظ سے ماخوذ ہو اور ہندو قوم میں جو لفظ ” سری اور شری“ بمعنے سردار استعمال ہوتا ہے وہ بھی اسی لفظ سے مستفاد ہو۔بالآخر اس موقع پر یہ امر قابل ذکر معلوم ہوتا ہے کہ لفظ " مریم بیلی اور ابن مریم یہ تینوں اسماملت اسلامیہ کی صفاتی کیفیت کے حامل ہیں۔لفظ ”مریم ملت کی ایسی “ 154 کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جو انسان کو بے بسی اور بے کسی کے عالم میں قریب المرگ کر دے۔اس بنا پر حضرت مریم نے فرما یا یا لیتنی مت (مریم : 24) یعنی کاش که میں مرجاتی۔اور لفظ ' یحیی اس موت سے بچ نکلنے کے مقام پر دلالت کرتا ہے اس لئے مسیحی علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا سلمٌ عَلَيْهِ (مریم : 16) یعنی اللہ تعالیٰ نے ملت کو موت کے منہ سے نکال کر بچا لیا اور لفظ ” ابن مریم کا مقام نہ 661 صرف بیچ رہنے پر دلالت کرتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی بچانے والا ہے۔گو یا لفظ ”ی“ سے ترقی کر کے لفظ احیا کا مقام ہے اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ أخي المولى ( آل عمران : 50) اور اپنے متعلق فرمایا السّلام علی (مریم :34) گویا انہیں اپنی سلامتی کیلئے اقتداری مقام حاصل ہو گیا تھا۔اسی بنا پر حضرت مسیح موعود ان تینوں مقامات کے جامع ہیں۔حضور پر پہلے فنا کا مقام وارد ہوا اور یہ مریمی مقام تھا پھر حیات کا مقام حاصل ہوا اور یہ یحیائی مقام تھا پھر ابن مریم کا مقام حاصل ہوا اور یہ احیا کا مقام ہے اسی بنا پر حضرت اقدس کے متعلق فرمایا گیا کہ يُحْى الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةً ( تذکر طبع چہارم صفحه 55) یعنی یہ فرد مردہ قوم کو زندہ کرنے کے بعد اس میں اسلام کی روح پھونک کر اسے شریعت پر قائم کر دے گا۔سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔نیز اس موقع پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت مجددالف ثانی اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی اور حضرت سید احمد بریلوی مریمی اور یحیا کی مقام کے حامل تھے اور ان کا وجو د سید نا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی آمد کیلئے بطور ارہاص کے تھا گویا یہ لیالی بیض یعنی گیارھویں بارھویں اور تیرھویں صدی کے چاند تھے اور ان کے بعد چودھویں کا چاند طلوع ہوا اسی بنا پر سورۃ مریم کے بعد سورۃ طہ رکھی گئی ہے کیونکہ طلہ کے اعداد 14 ہیں۔سوسورۃ طہ سے چودھویں صدی کا آغاز ہوتا ہے اور