معجزات القرآن — Page 67
”“ قصص قرآن پیشگوئیاں ہیں 131 بائبل میں بھی گزشتہ اقوام کے واقعات درج ہیں لیکن مرور زمانہ کے باعث اُن میں تغیر و تبدل ہوتا رہا اور بعض لوگ عمداً تحریف کرتے رہے۔قرآن شریف نے تمام واقعات ماضیہ کو صحیح طور پر بیان فرمایا تا کہ بائبل میں جو مشتبہ بیانات آئے ہیں ان کی اصلاح ہو جائے اور انبیاء کی مکذب قوموں کا انجام دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکد بین عبرت حاصل کریں۔کفار مکہ نے جب یہ قصے سنے تو انہوں نے بجائے عبرت حاصل کرنے کے انہیں اساطیر الاولین کے نام سے موسوم کیا یعنی یہ کتاب قصے کہانیوں کی کتاب ہے اور کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس اعتراض کا سورۃ فرقان میں بدیں الفاظ جواب دیا: وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَاصِيلًا قُلْ انْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السّر فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رحيما (آیات 7-6) ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوالی ہیں پس یہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں۔تو کہہ دے کہ اسے اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہے۔یقیناً وہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ان الفاظ میں سیٹر الْأَرْضِ سے مراد وہ واقعات ماضی ہیں جن پر مرورِ زمانہ کے باعث پردہ پڑ چکا تھا۔اور میٹر السموات سے مراد آئندہ کے واقعات ہیں جو عہد اسلام میں ظہور پذیر ہونے والے تھے۔لہذا جواب کا ماحصل یہ ہے کہ یہ “ 132 واقعات جو بظاہر زمانہ ماضی سے تعلق رکھتے ہیں درحقیقت پیشگوئیاں ہیں جو آئندہ اپنے اپنے وقت میں پوری ہوں گی۔قرآن شریف کے علاوہ احادیث نبوی سے بھی ثابت ہے کہ قصص قرآن صرف قصص ماضیہ ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے پردے میں زمانہ مستقبل کی خبریں دی گئی ہیں۔چنانچہ روایت ہے کہ اخرج الترمذى والدارمي عَنْ عَلِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلَ سَتَكُونُ فِتَنِ : قُلْتُ وَمَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا قَالَ كِتَابُ اللهِ كِتَابُ اللهِ! فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ ، لَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ۔(در منثور صفحه (151) یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ حضور فرما رہے تھے کہ بڑے فتنے برپا ہوں گے۔حضرت علی نے عرض کی کہ حضور ان سے نجات پانے کی کیا صورت ہے فرمایا اللہ کی کتاب جس میں گزشتہ زمانے کی بھی خبریں ہیں اور آئندہ کی بھی اور تمہارے مابین جو تنازعات ہو سکتے ہیں ان کا حل بھی ہے۔پھر فرمایا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کے نقص کو صرف قصص ماضیہ ہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں زمانہ مستقبل کے متعلق پیشگوئیاں بھی سمجھتے تھے پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اخبار ماضیہ کو عملاً آئندہ کی خبریں بتایا۔درمنثور جلد 4 صفحہ 215 میں لکھا ہے:۔قَالَ رَسُولُ اللهِ أَصْحَبُ الْكَهْفِ أَعْوَانُ الْمَهْدِي یعنی اصحاب کہف کے ذکر کے پردے میں امام مہدی علیہ السلام کے اعوان و انصار کا ذکر ہے۔اس روایت سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اخبار ماضیہ اپنے اندر