معجزات القرآن — Page 65
”“ 127 “ 128 یہ ایک عجیب نظارہ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے ہوئے کہتے ہیں ہمارے امام بھی یہی نبی ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر مجھے یوحنا عارف کے مکاشفہ کے یہ الفاظ یاد آئے۔کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان پر ایک تخت رکھا ہے اور اس تخت پر کوئی بیٹھا ہے اور اس تخت کے گرد چوبیس تخت ہیں اور ان تختوں پر چوبیس بزرگ سفید پوشاک پہنے ہوئے بیٹھے ہیں۔تو وہ 24 بزرگ اس کے سامنے جو تخت پر بیٹھا ہے گر پڑیں گے اور اس کو سجدہ کریں گئے (مکاشفہ باب نمبر 4 آیت 2 تا 10 ) اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں لفظ محمد اور احمد کے علاوہ صرف 24 نبیوں کے نام آئے ہیں بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ قرآن شریف میں 29 نبیوں کے نام درج ہیں یہ بیج نہیں۔لہذاذ والقر نین، عز یر اور لقمان نبی نہیں ہیں۔اور نہ ہی قرآن شریف سے ان کا نبی ہونا ثابت ہے۔اب لفظ موسیٰ کو دیکھئے۔اس کے اعداد 107 ہیں لیکن ہمیں اجازت ہے کہ ہم او پر کے الف کو شامل نہ کریں۔لہذا 106 کے اعداد احمد کے عدد 53 سے دو گنے ہیں۔اس کا اثر یہ ہے کہ قرآن شریف میں حضرت موسیٰ کی رجعت کا دو دفعہ ذکر آیا ہے۔ایک سورۃ اعراف میں جس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی سے ہے اور دوسری دفعہ سورۃ طہ میں جس کا تعلق مہدی علیہ السلام کی شخصی زندگی سے ہے۔سورۃ الاعراف میں فرمایا:۔وَلَمَّا رَجَعَ مُوسى إلى قَوْمِهِ غَضْبَانَ آسِفًا “۔(آیت: 151) ترجمہ: اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف سخت طیش کی حالت میں افسوس کرتا ہوا لوٹا۔فرمایا:۔اس کا اثر یہ ہوا کہ مدینہ کے یہودی مورد غضب الہی ہوئے اور پھر طہ میں فَرَجَعَ مُوْسٰى إِلى قَوْمِهِ غَضْبَانَ آسِفًا (آیت:87) ترجمہ : تب موسیٰ اپنی قوم کی طرف سخت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس لوٹا اس کا اثر یہ ہے کہ چودھویں صدی میں فلسطین کے یہود مور دغضب الہی ہو رہے ہیں۔پھر ذرا ان کلمات کو بھی ملاحظہ فرمائیے :۔اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لفظ اسمہ کے اعداد 106 ہیں یعنی احمد احمد اور کلمات المسیح عیسیٰ کے اعداد 290 ہیں اور لفظ ابن کے اعداد 53 ہیں اور یہ احمد کا عدد ہے۔مریم کے اعداد المسیح عیسی کی طرح 290 ہیں اور یہ 290 کا عددمحمد، احمد، کے عدد سے دو گنا ہے۔محمد ، احمد ، کے الفاظ 145 ہیں گویا لفظ مریم محمد ، احمد ، کے الفاظ کو دہراتا ہے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ 1000 سال محمدی کے بعد جو گیارھویں ، بارھویں اور تیرھویں صدی آئی وہ محمدیت اور احمدیت کے مابین عبوری حیثیت رکھتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ کے مجددین ایک جہت سے محمدی تھے یعنی از روئے نسل قریشی تھے اور دوسری جہت سے احمدی تھے کیونکہ ان کا نام احمد تھا۔ان بزرگوں سے ہماری مراد حضرت سید احمد سرہندی مجددالف ثانی جو گیارھویں صدی میں ہوئے اور حضرت سید احمد ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی جو بارھویں صدی میں ہوئے اور حضرت سید احمد بریلوی جو تیرھویں صدی میں ہوئے۔سولفظ مریم میں اسی دور کی طرف اشارہ ہے یہی مریمی دور ہے جس سے ابن مریم پیدا ہوئے اور ابن سے مراد احمد ہے جو چودھویں صدی میں پیدا ہوئے۔