معجزات القرآن — Page 51
“ مالکیت کے مظہر ہیں۔99 سورۃ فاتحہ ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کب بیعت لیں گے۔ذرا ذیل کے کلمات میں جو 13 صدیوں کے حامل ہیں غور فرمائیے۔غ - صراط اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ان كلمات میں حرف ط پر 1300 سال پورے ہورہے ہیں اور آگے لفظ اهْدِنَا ہمیں سمجھا رہا ہے کہ چودھویں صدی کے پہلے 10 سال کے اندر آپ لوگوں سے بیعت لیں گے کیونکہ لفظ ھیں کے اعداد 10 ہیں سو اسی زمانہ کے اندر لوگ امام مہدی علیہ السلام سے کہیں گے۔ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے حروف مقطعات میں بھی طلہ کے حروف میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ تیرھویں صدی کے پانچ سال گزرنے کے بعد آپ بیعت لیں گے۔چنانچہ آپ نے 1306ھ میں لوگوں سے بیعت لی۔اس سن کی طرف حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی کا الہام ”چراغ دین اشارہ کرتا ہے اور چراغ کا تعلق آتشی مادے سے ہے لہذا چراغ دین کے حروف کے اعداد جو 1268 سمسی ہیں نہ کہ قمری گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ مہدی علیہ السلام 1268ھ شمسی میں لوگوں سے بیعت لیں گے۔چنانچہ آپ نے 1268ھ میں ہی بیعت لی۔سن عیسوی کے مطابق یہ سن 1889ء بنتا ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ ان نہایت روشن اور واضح پیشگوئیوں کے ہوتے ہوئے بھی لوگ ابھی تک شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔بعض نے تو مایوس ہوکر یہاں تک کہ د یا کہ کوئی امام مہدی نہیں آنا اور امت کو کسی مصلح کی ضرورت ہی نہیں۔قبل ازیں النجم الثاقب کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث درج کی جاچکی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام 1240ھ کے بعد پیدا ہوں گے۔سورۃ وو “ 100 فاتحہ اس کی بھی تصدیق کرتی ہے اس کیفیت کی تصدیق یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں چار قوموں کا ذکر کیا گیا ہے۔اوّل مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ جس سے مراد حضرت مسیح ابن مریم کے دشمن یہود ہیں۔دوم ضالین یعنی عیسائی جنہوں نے تثلیث کا عقیدہ گھڑ لیا۔سوم غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اس سے مراد ملتِ اسلامیہ کی نشاۃ اولی کے لوگ ہیں۔چہارم وَلَا الضَّالِتين۔اس سے مراد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لوگ ہیں۔ان کلمات میں لفظ ”غیر “ اور حرف ”لا“ نے نہایت خوبی سے اس زمانے کو ظاہر کیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری سال اور امام مہدی علیہ السلام کے سن پیدائش کا پہلا سال ہمارے سامنے لے آتا ہے۔حرف ”لا“ کے اعداد 31 ہیں اور لفظ غیر کے اعداد 1210 ہیں۔یہ کل 1241 بنتے ہیں۔اور اس سن یعنی 1240 کے بعد آپ کی پیدائش ہوئی۔ہماری اس تقسیم سے کوئی یہ نتیجہ نہ نکالے کہ اسلام کی نشاۃ اولی میں معاذ اللہ ضلال پائی جاتی تھی بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے مقابلہ میں نشأة اولیٰ کو رکھا ہے اور عیسائیوں کے مقابلہ میں نشاۃ ثانیہ کو رکھا ہے سو یہ ایک نسبتی چیز ہے ور نہ دونوں نشاتیں منعم علیہم ہیں۔یہ ایسی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ صراط مستقیم میری راہ ہے اور اس میں میرے زمانے کی طرف ایما ہے اب حضور کے اس ارشاد سے یہ لازم نہیں آتا کہ نشاۃ اولی صِرَاط مُسْتَقِيم پر نہیں تھی۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کی زندگی کے اہم نکات کو جن کلمات میں قبل ازیں ظاہر کیا گیا ہے اُن سب کا تعلق آپ کے ماقبل کے زمانے سے ہے نہ کہ مابعد کے زمانے سے۔لہذا اب ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ مابعد کے زمانے کے لئے کون کون سے کلمات ہمارے سامنے آتے ہیں۔