معجزات القرآن — Page 24
”“ 45 کہ قرآن کریم میں لفظ آسٹری جہاں جہاں بھی استعمال ہوا ہے وہاں ہجرت مراد ہے۔سو اس آسٹری میں بھی اس سیر زمانی کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کرائی گئی سی وہ کوائف ہیں جو بدیہی طور پر نظر آ رہے ہیں۔یاد رہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی اور مدنی زندگی احمدی اور محمدی دور کا نمونہ ہے۔حضور کی مکی زندگی جمالی تھی اور مدنی زندگی جلالی تھی۔سو اس جلالی دور سے نشاۃ اولی کی ابتدا ہوئی اور پھر جب اس میں ضعف آگیا تو پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے ان تین سالوں کے مشابہ ہو گئی جو خاموشی اور اخفاء کے تھے یا آخری تین سال جو تکلیف کے تھے اور یہی حالت گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں صدی میں ملت کی رہی ہے۔اس کے بعد نشاۃ ثانیہ کی ابتدا ہوئی اور یہ نشاۃ بھی اپنی ابتدا میں ایک عرصہ تک سیاسی طور پر کی زندگی کے مشابہ ٹھہری لیکن دلائل و براہین کے میدان میں مدنی زندگی کے ہمرنگ ہو گئی اور پھر یہی نشاۃ ایک مدت کے بعد جو خیر القرون کے لگ بھگ ہے جلالی اور جمالی شان کے دونوں رنگوں سے رنگین ہو جائے گی۔ایسے ہی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم کے کلمات بھی ملت اسلامیہ کو اپنی کیفیت کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔حصہ اول رحمانیت کا مظہر ہے یعنی جاہ وجلال والا اور خدا تعالیٰ کی توحید اور تنزیہہ کا ثبوت بہم پہنچانے والا اور طاقت کا جواب طاقت سے دینے والا۔دوسرا حصہ رحیمیت کا مظہر ہے یعنی جمال اور علوم و معارف کا حامل ہے اور دلائل کا جواب دلائل سے دینے والا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی تصدیق قرآن شریف کی اس سورت سے بھی ہوتی ہے جو سب سورتوں سے پہلے نازل ہوئی یعنی سورۃ علق سے جیسے فرمایا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ “ علق : آیات 2 تا 6 ) مَالَمْ يَعْلَمُ ترجمہ: پڑھ اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔اس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا پڑھ، اور تیرا رب سب سے زیادہ معزز ہے جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔46 46 ان آیات کے بارے میں علامہ موسیٰ جار اللہ اپنی کتاب ” فی مُحُرُوفِ أَوَائِلِ الشور “ میں لکھتے ہیں :۔قَوْلُهُ اِقْرَأْ مَرَّتَيْنِ يُشير الى الْمَبْعَتَيْنِ الْمَبْعَثُ الْأَوَّلُ يَتَعَلَّقُ بِالْعَلَقِ وَهُوَ مِنَ اللَّهِ وَالثَّانِي بِالْقَلَمِ۔یعنی اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ میں لفظ اقرا کا دودفعہ آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پہلی بعثت کا تعلق’علق سے ہے اور خون سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ بعثت اولیٰ میں خون ریزی کرنی پڑے گی اور بعثت ثانیہ میں بجائے تلوار کے قلم سے کام لیا جائے گا۔اور یہی مفتر اس دعوئی کی تائید میں آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ “ کو بطور ثبوت پیش کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں۔دو علق يَرَى الْإِمَامُ السّنْدِي فِي قَوْلِ اللَّهِ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ" مَا يَرَاهُ النَّاسُ وَفِي قَلْبِي مِنْهُ شَيْءٌ لَا أَنْكِرُ صِحةَ مَا يَرَاهُ النَّاسُ وَيَرَاهُ الْإِمَامُ السّنْدِي مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى وَإِنَّمَا أَرَى فِيْهِ شَيْئًا مِنْ جِهَةِ نَحْوِ الْكَلَامِ فَإِنَّ ضَمِيرَ وَآخَرِينَ مِنْهُمُ لَا يُمْكِنُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْأُمِّيِّينَ فِي أَوَّلِ الْآيَةِ الثَّانِيَةِ فَإِنَّ الْآخَرِيْنَ لَيْسُوا مِنَ الْأُمِّيِّينَ وَالْبَعْضُ مِنَ الْأُمَمِ