مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 37 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 37

37 جنہوں نے سلطنتوں تک کو چھوڑ دیا آخر بیوقوف نہ تھے۔جیسے ابراہیم بن ادھم ، شاہ شجاع، شاہ عبدالعزیز جو مجد د بھی کہلاتے ہیں حکومت ، سلطنت اور شوکت دنیا کو چھوڑ بیٹھے۔اس کی یہی وجہ تو تھی کہ ہر قدم پر ایک ٹھوکر موجود ہے۔خدا ایک موتی ہے اس کی معرفت کے بعد انسان دنیاوی اشیاء کو ایسی حقارت اور ذلت سے دیکھتا ہے کہ ان کے دیکھنے کیلئے اسے طبیعت پر ایک جبر اور اکراہ کرنا پڑتا ہے۔پس خدا کی معرفت چاہو اور اس کی طرف ہی قدم اٹھاؤ کہ کامیابی اسی میں ہے۔ہے خلافت راشدہ کے بعد نیم تربیت یافتہ مسلمانوں اور غیر عربی اقوام میں جاہلی رجحانات عود کر آئے تھے۔تفاخر و عصبیت کی روح جس کو اسلام نے شہر بدر کر دیا تھا اور جو بادیہ عرب میں پناہ گزیں تھی ، پھر لوٹ آئی۔قبائلی غرور، خاندانی جنبه داری، اعزہ پروری اب دوبارہ محاسن میں شمار ہونے لگے تھے۔بیت المال خلیفہ کی ذاتی جاگیر بن گیا تھا۔پیشہ ور شعراء، خوشامدی درباریوں اور آبرو باختہ مصاحبین کا ایک طبقہ پیدا ہو گیا تھا۔جس پر امت مسلمہ کی دولت بے دریغ صرف ہورہی تھی۔معترضین کا ایک طبقہ معرض وجود میں آگیا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے زخم خوردہ جاہلیت اپنے فاتح حریف سے چالیس سالہ شکست کا انتقام ایک ہی دن میں لینا چاہتی ہے۔اسلام غریب الدیار ہورہا تھا۔حضرت نبی اکرم کی پیشگوئی کے مطابق خلافت راشدہ کے اختتام کے بعد ملكاً عاضًا“ کا دور دورہ تھا۔طاؤس و رباب ، رقص و سرود اور مئے و معشوق مسلم حکمرانوں کے دربار کی رونق تھے۔انہیں ملک کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت سے کوئی سروکار نہ تھا۔اور الناس علی دین ملو کھم“ کے تحت عوام کالانعام ہورہے تھے۔مسجد میں ویران ہو رہی تھیں۔بدعات بڑھ رہی تھیں۔امت مسلمہ کی اخلاقی حالت پستی کے عمیق گڑھوں میں سسکیاں لے رہی تھی۔لاھہ میں تاریخ اسلام کا وہ جانگسل واقعہ رونما ہوا جس کے باعث اہل اسلام کی گردنیں قیامت تک شرم سے جھکی رہیں گی۔مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی مثالیں بھی موجود تھیں، غلط فتوے دیے جاتے تھے۔لیکن چشم فلک نے یہ کبھی نہ دیکھا تھا که یزید پلید جیسا شخص خلیفتہ السلمین نامزد کیا جائے۔قاضی شریح جیسا بد بخت قتل حسین علیہ السلام کا فتویٰ ایک اشرفیوں کی تھیلی پر جاری کرے۔۱۰ محرم کی شام مسلم دنیا کی کتنی سیاہ شام تھی۔جب امام المعصومین، سید الشہداء، نواسہ رسول، جگر گوشته بتول، فرزند علی حضرت امام حسین علیہ السلام کا سرسجدہ