مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 353 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 353

353 اعتراض نہ کریں۔کیونکہ دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنے سے اپنے مذہب کی سچائی ثابت نہیں ہوتی بلکہ دوسرے مذہب کے لوگوں میں بغض و کینہ پیدا ہوتا ہے۔(۳) تیسرا اصل امن عامہ کے قیام کیلئے آپ نے تجویز کیا کہ ملک کی ترقی فساد اور بغاوت کے ذریعہ سے نہ چاہی جائے بلکہ امن اور صلح کے ساتھ گورنمنٹ سے تعاون کر کے اس کیلئے کوشش کی جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت جب کہ عدم تعاون کا زور ہے لوگ اس اصل کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تعاون سے جس سہولت سے حقوق مل سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں مل سکتے۔مگر تعاون سے مراد خوشامد نہیں۔خوشامد اور شے ہے اور تعاون اور شے ہے۔جسے ہر شخص جوغور و فکر کا مادہ رکھتا ہو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔خوشامد اور عہدوں کی لالچ ملک کو تباہ کرتی ہے اور غلامی کو دائمی بناتی ہے مگر تعاون آزادی کی طرف لے جاتا ہے۔میں اُس ( اللہ ) کی طرف سے ہوں انوار العلوم - جلد 10 صفحہ 190 تا 199) ”میرا خدا جو آسمان اور زمین کا مالک ہے میں اس کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں اُس کی طرف سے ہوں۔اور وہ اپنے نشانوں سے میری گواہی دیتا ہے۔اگر آسمانی نشانوں میں میرا کوئی مقابلہ کر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر دعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی میرے برابر اُتر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلہ ٹھہر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر غیب کی پوشیدہ باتیں اور اسرار جو خدا کی اقتداری قوت کے ساتھ پیش از وقت مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں ان میں کوئی میری برابری کر سکے تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں“۔( اربعین نمبر 1۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 346-345)