مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 352
352 چیزوں میں مشترک کیا ہے وہ ہدایت میں فرق نہیں کر سکتا اور اصولاً سب قوموں میں انبیاء کا ہونا لازمی قرار دیا۔پس آپ نے مثلاً حضرت کرشن کو اس لئے نبی تسلیم نہ کیا کہ وہ ایک بزرگ ہستی تھے جنہوں نے ایک تاریکی میں پڑے ہوئے ملک میں استثنائی طور پر افرادی جد و جہد کے ساتھ خدا کا قرب حاصل کر لیا، بلکہ اس لیے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ ایسا خدا ممکن نہ تھا کہ ہندو قوم کو بھلا دے اور اس کی ہدایت کا کوئی سامان نہ کرے۔(۲) دوسرے آپ نے انسانی فطرت اور اس کی قوتوں کو دیکھا اور بے اختیار بول اٹھے کہ یہ جو ہر ضائع ہونے والا نہیں ، خدا نے اسے ضرور قبول کیا ہوگا۔اور اس کو روشن کرنے کے اسباب پیدا کئے ہوں گے۔غرض آپ کا نقطہ نگاہ بالکل جدا گانہ تھا اور آپ کا فیصلہ چند شاندار ہستیوں سے مرعوب ہونے کا نتیجہ نہ تھا۔بلکہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور انسانی قابلیت اور پاکیزگی کی بناپر تھا۔اس سے صلح کا رستہ کھل گیا۔کوئی ہندو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر میں اسلام قبول کروں تو مجھے اپنے بزرگوں کو برا سمجھنا پڑے گا۔کیونکہ اسلام ان کو بھی بزرگ قرار دیتا ہے اور اسلام قبول کرنے میں وہ انہی کی تقلید کرے گا۔یہی حال زرتشتیوں کنفیوشس کے تابعین اور یہودیوں اور مسیحیوں کا ہوگا۔پس ہر مذہب کا انسان اپنے آبائی فخر کو سلامت رکھتے ہوئے اسلام میں داخل ہوسکتا ہے اور اگر داخل نہ ہو تو صلح میں ضرور شامل ہو سکتا ہے۔اس اصل کے ذریعہ سے آپ نے بندہ کی خدا تعالیٰ سے بھی صلح کرادی۔کیونکہ پہلے مختلف اقوام کے لوگوں کے دل اس حیرت میں تھے کہ یہ کس طرح ہوا کہ خدا تعالیٰ میرا خدا نہیں ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی نسبت ان جذبات محبت کو پیدا نہیں کر سکتے تھے جو ان کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زنگ کو بھی دور کر دیا۔اور جہاں اپنی تعلیم کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کے درمیان صلح کا راستہ کھولا وہاں خدا اور بندہ کے درمیان صلح کا بھی راستہ کھولا۔(۲) دوسرا ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امن عامہ کے قیام کیلئے یہ اختیار کیا کہ آپ نے تجویز پیش کی کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔دوسرے مذاہب پر