مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 341 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 341

341 امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے تو آپ کو ایک فتح نصیب جرنیل قرار دیا۔آپ کو عطا ہونے والا یہ علم دراصل وہ آسمانی حربہ ہے جو باطل کے سب قلعوں کو مسمار کرتا چلا جاتا ہے۔اس کی لاثانی تاثیرات کا یہ عالم ہے کہ آپ کے وصال کے بعد بھی یہ لازوال علم کلام غلبہ اسلام کا ایک کامیاب ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔معارف کے اس سمندر سے احمدی مبلغین تو فائدہ اٹھاتے ہی ہیں غیر احمدی علماء بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو اپنے بیانات اور تحریرات میں بکثرت استعمال کرتے ہیں مگر حوالہ دینے کی جرأت نہیں رکھتے۔یہ ہے وہ زبردست علم کلام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو دیا۔جو ہر میدان مقابلہ میں فتح کی ضمانت ہے۔بالخصوص عیسائیت کے مقابل پر حضرت مسیح موعود کے دلائل تو گویا ایسے پتھر ہیں جن کا جواب وہ ہر گز نہیں دے سکتے۔رسول پاک می نے آنے والے موعود کا ایک کام کسر صلیب بیان فرمایا تھا۔اس کا شاندار ظہور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور بعد میں ہر زمانہ میں بڑی شان سے نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے باطن شکن دلائل سے پادری لیفر ائے کو ایسا لا جواب کیا کہ مولوی نور محمد صاحب نے تسلیم کیا کہ آپ نے تو ” ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔(دیباچہ معجز نما کلام قرآن شریف مترجم مطبوعہ 1934 ء صفحہ 30) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو جو روحانی خزائن عطا فرمائے وہ 90 سے زائد کتب کی صورت میں شائع شدہ ہیں۔آپ کے بعد آپ کے خلفائے کرام نے اس سلسلہ کو جاری رکھا اور پر معارف کتب کی صورت میں نئے سے نئے علوم دنیا کو عطا کرتے رہے۔علمائے سلسلہ نے بھی اس شیریں چشمہ سے اکتساب فیض کرتے ہوئے عظیم الشان تصانیف کا تحفہ دنیا کو دیا۔57 زبانوں میں تراجم قرآن کی اشاعت، تفاسیر القرآن، احادیث کی تشریحات، مختلف اسلامی موضوعات پر تصانیف اور مسائل حاضرہ کے موضوعات پر کتابوں کی اشاعت، دنیا بھر کی زبانوں میں ان کتب کے تراجم ، مرکز سلسلہ کے علاوہ مختلف ممالک سے شائع ہونے والے اخبارات ورسائل۔یہ سب احمدیت کے علمی و روحانی فیضان کے دھارے ہیں جو ہر سمت تیزی سے بہتے چلے جارہے ہیں۔علوم و معارف کی یہ عظیم دولت ہے جو احمدیت نے دنیا کو عطا کی اور یہ کتاب جو آپ پڑھ رہے ہیں اسی کام کی ایک کڑی ہے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے:۔