مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 335 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 335

335 ”اس میں کلام نہیں کہ انہوں نے یقیناً اخلاق اسلامی کو دوبارہ زندہ کیا اور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھادی جس کی زندگی کو ہم یقینا اسوہ نبی کا پر تو کہہ سکتے ہیں۔( ملاحظات نیاز فتح پوری، مرتبہ محمد اجمل شاہد ناشر جماعت احمدیہ کراچی۔صفحہ 29 بحوالہ رسالہ نگارلکھنو نومبر 1959ء) پاکیزہ اسلامی معاشرہ آج عالم اسلام انتشارکا شکار ہو چکا ہے۔محبت واخوت نام کی چیز من حیث المجموع مسلمانوں کے دلوں سے عنقا ہو چکی ہے۔مسلم ممالک کی بستیاں اور گلی کوچے اسلامی اخلاق سے عاری نظر آتے ہیں۔اسلامی ملکوں کے اخبارات دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ساری دنیا کے جرائم نے ان ممالک میں ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا اس حد تک دیوالیہ نکل چکا ہے کہ اس بد کردار معاشرہ کو اسلام سے منسوب کرنا دین اسلام کی سخت تو ہین ہے۔اس حالت کو دیکھ کر یہ شعر زبان پر آتا ہے کہ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا جب اس معاشرہ کے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے دنیا کو کیا دیا؟ تو ان کیلئے ہمارا ایک جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہلاکت کے گڑھے پر کھڑی دنیا کو حق اور سلامتی کا راستہ دکھایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو ایک سچا اور پاکیزہ اسلامی معاشرہ عطا کیا ہے جو صحیح اسلامی تعلیمات اور اقدار پر مبنی ہے۔اگر کسی کو چشم بصیرت عطا ہو تو اسے یہ معاشرہ ہر ملک میں اور ہر بستی میں احمدیہ جماعت کے اندر نظر آسکتا ہے جہاں اللہ اور رسول کی محبت کے تذکرے جاری ہیں۔جہاں نیکیوں سے محبت اور بدیوں سے نفرت کی جاتی ہے۔جہاں مسابقت بالخیرات کے روح پرور نظارے دکھائی دیتے ہیں۔جہاں قرون اولیٰ کے صحابہ کے رنگ میں رنگین ہو کر جان و مال کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔کس کس بات کا ذکر کریں۔یہ وہ زندہ اور زندگی بخش معاشرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے دنیا میں قائم ہو چکا ہے اور جس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دور آخرین میں دنیا کو جو پاکیزہ اسلامی معاشرہ عطا کیا