مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 268 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 268

268 چودھویں صدی کے مجدد جیسا کہ علماء کا عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ مجددین کا خاتم امام مہدی ومسیح موعود ہی ہوگا اور وہی چودھویں صدی کے مجدد ہوں گے۔چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اس صدی کے مجدد ہونے کا دعویٰ فرمایا۔آپ کے بعد آپ کی خلافت خدائی نوشتوں کے مطابق ” دوسری قدرت کی صورت میں ظاہر ہوئی جو جاری وساری ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ جاری رہے گی۔خلافت آب کا حکم رکھتی ہے اور مجددیت تیم کا۔پانی کے ہوتے ہوئے تیمیم کی ضرورت نہیں رہتی۔اسی طرح خلافت کی موجودگی میں کسی ایک مجدد کی کوئی گنجائش اور ضرورت نہیں رہتی۔خلیفہ وقت ہی تجدید دین کا کام باحسن طریق پر انجام دیتا ہے۔یہی سوال ایک مرتبہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع سے کیا گیا تو آپ نے اس کا تفصیلی جواب عطا فرمایا جو یہاں درج کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع سے ایک سوال ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ مجدد ہر صدی پر آتے رہے کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا ؟ حضور نے اس گا؟ سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:- مجددیت خلافت کی قائمقام ہے سوال یہ ہے کہ دین کے متعلق پیشگوئیاں ہیں ان میں کیا خوشخبری تھی اور کیا انذار کا پہلو تھا اور تاریخ اسلام سے ثابت ہوا کہ دونوں پہلو سچے ثابت ہوئے۔خلافت کے ہوتے ہوئے جب مجددیت کی خبر دی گئی کہ ایک سو سال بعد مجدد آئے گا تو یہ بھی پیشگوئی تھی کہ سو سال سے پہلے خلافت ہاتھ سے نکل جائے گی۔ورنہ قرآن کریم نے خلافت کی پیشگوئی کی ہو اور رسول کریم ﷺ اس پیشگوئی کو نظر انداز کر کے کوئی اور پیشگوئی کر دیں، یہ بات درست نہیں ہے۔تو مجددیت خلافت کے قائمقام ایک انسٹیٹیوشن ہے اور واقعہ یہی ہوا کہ اسلام کی پہلی صدی کے ختم سے بہت پہلے خلافت کا نظام ٹوٹ گیا اور خلافت کا نظام ٹوٹنے کے نتیجے میں روحانی نظام حکومت سے الگ ہو گیا۔اور مرکزی نظام دوحصوں میں