مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page xxix of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxix

کا علم دیا گیا تھا کہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ امت کے اندرونی دشمن یعنی علماء ، امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیں گے۔اس لیے آنحضرت ﷺ کی روح آستانہ الہی پہ مضطرب پڑی رہی جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس بشارت کا انکشاف نہ ہو گیا۔بحوالہ ابوداؤد کتاب الملاحم باب ما يذكر في قرن المئة روایت ہے۔عن ابي هريرة رضى الله عنه فِيمَا اَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا“۔ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس امت کیلئے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ کھڑے کرتا رہے گا جو اس امت کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔مقصد یہ پیش نظر تھا کہ فرقہ سازی چونکہ روز مرہ کے مسائل میں اپنی اپنی انا اور ہٹ دھرمی کے باعث ہوگی اس لیے جہاں سابقہ امتوں میں روز مرہ کے اختلافات کے تدارک کیلئے کوئی بالائی نظم ونسق نہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی مناجات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اختلافات امت کے شر سے بچنے کیلئے بشارت دی کہ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ کسی ایسے وجود کو کھڑا کر دیا کرے گا جو ساتھ کے ساتھ حسب حالات وضرورت تجدید کا فریضہ ادا کرے۔اس بشارت کے اندر حسب ذیل اہم نکات خصوصیت سے قابل توجہ ہیں۔(1) با وجود قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی موجودگی کے علمی اور عملی کام تخریب کاری کا کام نہیں روکے گا اس لئے جب ایک معین عرصہ گزرے گا تو اختلافات اور نفسانی تو جیہات کے شر سے امت کی سوچ فکر عمل و اتحاد اور یکجہتی کو بچانے کیلئے خود خدا تعالیٰ کی طرف سے اہتمام ہوا کرے گا اور مجدد کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعثت ہوگی۔یہ سابقہ امتوں کے مقابل پر آنحضرت ﷺ کی امت پر اضافی رحمت اور شفقت اور حفاظت کا اہتمام ہوگا۔(۲) تجدید سے مراد یہ نہ ہوگی کہ کوئی مجدد نئے احکام یا ردوبدل یا نسخ وترمیم کرنے والا ہوگا۔ایسا وجو د شریعت محمدیہ کو قیامت تک مطلوب و در کار نہیں اور تجدید سے مراد علماء سو کی ان چیرہ دستیوں اور غلط نیز بگڑی ہوئی سوچوں کے شر سے دین محمدی کو بچانا ہے اور مضر اثرات کو