مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page xxviii of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxviii

I بسم اللہ الرحمن الرحیم عرض حال از محترم مولانا سلطان محمود انور صاحب ناظر خدمت درویشاں ربوہ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کے فرمودات میں سے تین ایسے فرمان ہیں جن کا اُمت کے مستقبل سے تعلق تھا اور جو کثرت اور تواتر کے ساتھ کتب احادیث میں محفوظ چلے آتے ہیں۔ان تین اہم فرمانوں میں سے ایک فرمان اپنے اندر کھلے انتباہ کا رنگ رکھتا ہے اور دوسرے دو فرمان امت کے روشن مستقبل کی بابت دراصل دو عظیم بشارتیں ہیں۔آنحضرت ﷺ کا پہلا فرمان جو انتباہ پر مشتمل ہے وہ اس پس منظر سے اہمیت پکڑتا ہے کہ پاک محمد مصطفی ﷺ نے اپنے 23 سالہ عہد نبوت میں اپنا لحہ لمحہ اُمت کی تعمیر اور قیام وحدت کیلئے وقف کر رکھا تھا۔اور یہ وحدت امت کی جہاں بے مثل کیفیت تھی وہاں آنحضرت کے مستقبل کے پیش نظر حسب ذیل انتباہ بھی امت کیلئے ضروری سمجھتے تھے۔چنانچہ فرمایا: - صلى الله عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله عليه تَفَرَّقت اليهودُ عَلَى إِحْدَى وَ سَبْعِينَ اَوِ اثْنَتَيْنِ وَ سَبْعِينَ فِرْقَةِ وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ و تَفْتَرِقُ أمتى عَلَى ثَلَاثٍ وَ سَبْعِينَ فِرْقَةً“۔(ترمذی ابواب الایمان باب افتراق هذه الامة ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہودی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔اسی طرح نصاریٰ کا حال ہوا اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔یہ فرمان بلاشبہ ایک انتباہ تھا۔لیکن امت کے علماء اور چیدہ شخصیتوں نے امت واحدہ کوٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کبھی تامل سے کام نہیں لیا۔اور امت کے یہ ” مہربان“ ابھی ٹکڑے کرنے کا کھیل برابر کھیل رہے ہیں۔سید الانبیاء ﷺ کو چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے امت واحدہ کے عبرتناک مستقبل