مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 222
222 اس کے بعد مزید فرماتے ہیں:- ”اس کے بعد بالا تر مرتبے کیلئے ہم پر وعظ ونصیحت کے دروازے کھل گئے۔سلسلہ تبلیغ کے اعلیٰ مراتب کو پہنچا اور یہ حقیقت مخالف و موافق پر روشن ہے۔اب ہمیں کفار کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا ہے جو باطنی ترقی کا سب سے اونچا پایا ہے۔یہ انبیاء اولوالعزم کا طریقہ اور اسوہ ہے۔کلے حاجی عبدالرحیم صاحب جو خود پیر طریقت ہیں، ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ تو خود صاحب کمال ہیں آپ کیوں سید صاحب کے مرید ہوئے ہیں۔کہنے لگے :- ہم کو نماز پڑھنی اور روزہ رکھنا نہ آتا تھا۔سید صاحب کی برکت سے نماز پڑھنی بھی آگئی اور روزہ رکھنا بھی آگیا“۔۔بدعات کے خلاف جہاد جب سید صاحب شاہ عبدالعزیز کے پاس دہلی پہنچے تو شاہ صاحب کے خاندان میں بھی ملکی رواج کے تحت تسلیمات و آداب کہنے کا رواج تھا۔مگر آپ نے جا کر السلام علیکم کہا تو شاہ صاحب بہت خوش ہوئے اور حکم دیا کہ آئندہ سب لوگ اسی طریقہ پر سلام کیا کریں۔بیوہ سے نکاح ثانی کرنا آپ کے عہد کی سب سے بری رسم یہ تھی کہ بیوہ کے دوسرے نکاح کرنے کو برا سمجھا جاتا تھا اور اس پر قتل و غارت اور کشت و خون بہایا جاتا تھا۔آپ نے ایک مجدد کی حیثیت سے اس بد رسم کا خاتمہ کیا اور سب سے پہلے خود عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے اپنی بیوہ بھاوج سے خود اپنا نکاح کیا۔اس کیلئے آپ نے ایک رسالہ بھی تصنیف فرمایا۔اپنے رشتہ داروں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :- ”میرے تمام رشتہ دار صاف سن لیں کہ جو اللہ اور رسول کی فرمانبرداری میں میرے شریک حال ہو کر حکموں کو پورا کرنے اور منع کی ہوئی باتوں سے دور رہنے میں کسی طعن و ملامت کا خیال تک دل میں نہ لائیں جو اس کیلئے تیار نہ ہوں میری طرف سے ان کو جواب ہے اور میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں“۔