مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 220 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 220

220 " آج اللہ نے مجھے بیحد احسانات سے نوازا، مجھے تمام میرے معاصرین واسلاف میں سرفراز اورممتاز فرمایا اور فرمایا کہ جو تم سے بیعت کرے گا اس کو دنیا وآخرت کے مکروہات سے محفوظ اور اپنی رضامندی اور انعام سے محظوظ کروں گا ۱۲ دعوت اصلاح شاہ عبدالعزیز صاحب نے سید صاحب کے دہلی پہنچنے سے ایک ہفتہ قبل ایک خواب دیکھا کہ رسول الله له جامع مسجد دہلی میں تشریف فرما ہیں۔خلقت حضور کے دیدار کیلئے امڈ تی آرہی ہے۔حضور نے شاہ صاحب کو دست بوسی کی سعادت کا شرف بخشا اور پھر عصا مرحمت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تو مسجد کے دروازے پر بیٹھ جا۔ہر کسی کا حال ہمیں سنا جس کیلئے ہمارے ہاں سے حاضری کی اجازت ملے اسے اندر آنے دے۔آپ نے شاہ غلام علی صاحب سے اس کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ کا کوئی مرید رسول کی فیض ہدایت کا موجب ٹھہرے گا۔جب سید صاحب دہلی پہنچے تو شاہ صاحب کو یقین ہو گیا کہ سید صاحب کے ذریعہ سے ہی یہ سلسلہ جاری ہوگا۔چنانچہ آپ نے لوگوں کو ہدایت کی دعوت دی۔انہیں بُرے طور اطوار ترک کر دینے کی تلقین کی۔آپ کو کس طرح خدا کی تائید حاصل تھی اس کا اندازہ اس معمولی واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ایک صوفی آپ کی مخالفت کرتا تھا۔اس نے جب رواج کے مطابق حافظ کے شعر سے فال نکالی تو یہ شعر نکلا سجاست صوفی دجال چشم و ملحد شکل بگو بسوز که مهدی دین پناه رسید اے صوفی جو دجال کی آنکھ اور محمد کی شکل کا ہے اپنی آگ میں جلتا رہ کہ مہدی دین پناہ آگیا ہے۔اس پر صوفی نادم ہوا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر تائب ہو گیا۔۱۳ ایک شخص ملاں بخاری تھا جو شاہ عبدالعزیز صاحب کے پاس کسب فیض کیلئے آیا۔آپ نے اُسے سید صاحب کی طرف بھیجا۔اس نے آپ کی سپاہیانہ وضع قطع دیکھ کر انقباض کیا تو شاہ صاحب نے