مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxv
سی پیش لفظ مسلم دنیا بالعموم خدا کی طرف سے ملنے پر عظیم تر انعام الہی مثلا مصلحین کی آمد کے حوالے سے ایک طویل انتظار جو اب مایوسی میں بدلتا نظر آتا ہے کا شکار ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آمدہ بڑے انعام کا انکار کرنے کی وجہ سے باقی انعامات بھی اللہ تعالیٰ نے چھین لیے ہیں۔مجددین کا سلسلہ جو پہلی صدی کے سر پر شروع ہوا تھا وہ تیرھویں صدی تک آکر بظاہر ان کی نظر میں ختم ہو گیا۔اور پھر چودھویں صدی میں آنے والے مجدد کا انہوں نے انکار کر دیا۔لیکن جماعت احمدیہ کے نزد یک خدا کے انعامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔پہلے بھی خدا کے نیک بندے رشد و ہدایت کے نام پر مامور ہوتے رہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔رُشد و ہدایت کے اس چودہ سو سالہ طویل دور میں چند نابغہ روزگار ہستیوں کا ذکر جو مجدد بنا کر اصلاح خلق کی خاطر دُنیا میں آئیں ہماری اس کتاب کا موضوع ہے۔اس جگہ ہم نے تمام مجددین کے تفصیلی حالات خوف طوالت سے چھوڑ کر صرف ہر صدی کے چند مشہور و معروف مجددین کا تذکرہ کر دیا ہے۔ان مجددین کے انتخاب میں ان کے تجدیدی کام کے لحاظ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد ملحوظ رکھا ہے کہ:- اللہ تعالیٰ ہر صدی پر ایک مجددکو بھیجتا ہے جو دین کے اس حصے کو تازہ کرتا ہے جس پر کوئی آفت آئی ہو۔اے اسی طرح حضرت اقدس نے جس جس مجدد کا ذکر خیر اپنی کتابوں میں فرمایا ہے اس سے بھی ہم نے تیرہ صدیوں کے مجددین کے انتخاب میں راہنمائی لی ہے۔ان تمام امور کو مدنظر رکھنے کے باوجود بھی ہمارا یہ دعوی نہیں کہ مجددین کی یہ فہرست آخری اور حتمی ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے کہا مجددین کو تیرہ کے عدد میں محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ کئی لحاظ سے ان کی کئی فہرستیں بن سکتی ہیں صرف بعض پہلوؤں