مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 185
185 اظلال ہیں۔کے رد فلسفه ایک دن ابوالفضل نے فلاسفہ کی بے جا تعریف کی تو امام ربانی نے جوش میں فرمایا :- امام غزائی نے فرمایا ہے کہ جن علوم کے فلاسفہ اپنے تئیں واضح بتلاتے ہیں وہ دراصل علوم انبیاء سے مسروقہ ہیں اور جو علوم انہوں نے مثل ریاضی وغیرہ ایجاد کیسے ہیں وہ دین میں مفید نہیں۔۔بادشاہ وقت کو تبلیغ اکبر بادشاہ اسلام سے منحرف ہو چکا تھا اور دین الہی کی ترویج کرتا تھا۔دین الہی کی بیعت میں یہ عہد شامل تھا کہ میں اسلام کو جو قابل تقلید نہیں رہا چھوڑتا ہوں۔حضرت مجدد نے بادشاہ کو سر بازار بُرا کہا اور اس کی خاطر پابند سلاسل کیے گئے لیکن افضل جهاد كلمة حق عند سلطان جابر پرعمل کرتے رہے اور اپنے عقائد سے سرمو انحراف نہ کیا۔آپ نے ایک بار فرمایا:- ”بادشاہ اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہو گیا ہے۔جاؤ میری طرف سے اسے کہہ دو کہ اس کی بادشاہی، اس کی طاقت ، اس کی فوج سب کچھ ایک دن مٹ جانے والی ہے۔وہ تو بہ کر کے خدا اور اس کے رسول کا تابعدار بنے ورنہ اللہ کے غضب کا انتظار کرے۔واہ اسی طرح فرمایا : - ”بادشاہ اہل اسلام کی توجہ اہل کفر کی جانب نہیں رہی ہے۔مسلمانوں پر لازم ہے کہ رسومات کفر کی قباحت پوری طرح بادشاہ کے ذہن نشین کرا دیں۔ضرورت سمجھیں تو کسی عالم کو بلا لیں۔احکام شرعی کی تبلیغ کیلئے کرامتوں کا اظہار ضروری نہیں“۔اکبر بادشاہ نے دین الہی کی برتری ثابت کرنے کیلئے آپ کو دعوت پر بلایا۔ایک طرف دربار اکبری سجایا اور پر تکلف کھانے تیار کیے گئے۔دوسری طرف حضرت مجدد کا دربار تھا جو ان تکلفات سے بری تھا۔اکبر کا خیال تھا کہ آج پرانے اسلام پر میری دھاک بیٹھے گی۔لیکن حضرت مجددالف ثانی چند دوستوں کے ساتھ وہاں گئے۔خدا کا کرنا کیا ہوا کہ تھوڑی دیر بعد ہی سخت طوفان آیا اور در بارا کبری